صدر احمدی نژاد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران تہران اعلامئے پرکاربند ہے اور امید رکھتاہےکہ ویانا گروہ اس تاریخي موقع سے فائدہ اٹھاکر ایرانی قوم سمیت اقوام عالم کے حقوق کا احترام کرنے پراپنے عھدو پیمان کا اعلان کرے گي۔ صدر جناب احمدی نژاد نےتجویزپیش کی کہ عالم و فاضل افراد اور وزرا ثقافت مل بیٹھ کر آفاقی نظرسے دوستی اور برادری کا منشور تیارکریں تاکہ یہ عالمی تعلقات کی بنیاد بن سکے۔ انہوں نے ایک اور تجویز دی کہ سیکا رکن ممالک کے وزرا خارجہ یا وزرا انرجی ایٹمی ترک اسلحہ کے طریقہ ہای کار کاجائزہ لیں۔ انہوں نے مسئلہ فلسطین کاذکرکرتےہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے فلسطین کے دیرینہ مسئلے کے حل کےلئے فلسطین کے اصلی باشندوں کی شرکت سے خواہ وہ عیسائي ہوں یا یہودی ہوں یا مسلمان ہوں ، ریفرینڈم کرانے کی تجویزدی ہے۔ اور یہ راہ حل انسانی اقدارپرمشتمل ہے جس پرخرچہ بھی کم آئے گا اور یہ سب سے آسان راستہ بھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کا محاصرہ ختم کرانے کی راہوں کی پیروی کرنے کی ضرورت ہے ۔
...........
/110