17 اگست 2010 - 19:30

قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر حسن حیدر بخاری کالعدم دہشت گرد ٹولے سپاہ صحابہ کی دہشت گردانہ کاروائی کے نتیجے میں جام شہادت نوش کرگئے ہیں۔ ان کا تعلق سیالکوٹ سے تھا اور کراچی میں دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف تھا۔

شیعہ ڈاکٹر شہید حسن حیدر بخاری سمیت گذشتہ دنوں کالعدم دہشت گرد(ناصبی) گروہوں کی جانب سے دہشت گردی کا شکار ہونے والے ملت جعفریہ کے معصوم جوانوں کی شہادت کے ذمہ داروں کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ عباس کمیلی نےجعفریہ الائنس کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ کئی دنوں سے پاکستان بھر میں بالخصوص شہر کراچی میں کالعدم دہشت گرد گروہوں کی حکومت قائم ہے اور کالعدم دہشت گردجماعتوں سے تعلق رکھنے والے سفاک دہشت گرد ملت جعفریہ کے بے گناہ افراد کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنارہے ہیں۔     سربراہ جعفریہ الائنس پاکستان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ کراچی میں ملت جعفریہ کے بے گناہوں کے قتل عام کے خلاف ایکشن لے ان کا کہنا تھا کہ ملت جعفریہ کے صبر کا امتحان نہ لیا جائے ورنہ حکومت کے گریبان ہماری دسترس سے دور نہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ کالعدم دہشت گرد گروہوں کے سفاک درندے ملت جعفریہ کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنارہے ہیں جبکہ دوسری سمت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومتی سرپرستی بھی کالعدم دہشتگرد جماعتوں کو حاصل ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ملت جعفریہ کو تحفظ فراہم کرے اور شہدائے ملت جعفریہ بالخصوص ڈاکٹر حسن حیدر اور گذشتہ چند دنوں میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے تمام شیعہ افراد کے قاتلوں کو گرفتار کرے اور قرار واقعی سزا دے ورنہ بصورت دیگر ملت جعفریہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتی ہے۔قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر حسن حیدر بخاری کالعدم دہشت گرد ٹولے سپاہ صحابہ کی دہشت گردانہ کاروائی کے نتیجے میں جام شہادت نوش کرگئے ہیں۔ ان کا تعلق سیالکوٹ سے تھا اور کراچی میں دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف تھا۔شہید ڈاکٹر کی نماز جنازہ شاہ خراسان میں ادا ہوئی اور اس کے بعد ان کی میت تدفین کے لئے ان کے آبائی شہر سیالکوٹ منتقل کردی گئی۔ یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں کسی دہشت گرد ٹولے کو کالعدم قرار دیئے جانے کا مطلب ان کا مکمل خاتمہ، ان کے قاتلون کی گرفتاری اور انہین سزا دینا اور انہیں مزید دہشت گرد کاروائیوں سے روکنا، نہیں ہوتا بلکہ جیسا کہ مذکورہ ٹولے اور اس جیسے دیگر دہشت گرد ٹولوں کی  سیاہ اور انسانیت سوز کاردگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی اصل کاروائیان کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد ہی انجام دیتے ہیں یا یوں کہئے کہ کالعدم قرار دیا جانا ان کے لئے سیکورٹی شیلڈ ہے!حالانکہ اس وقت پاکستان میں جو بھی گروہ مذہب کے نام پر سرگرم عمل ہیں وہ سب پاکستان کی سالمیت اور سلامتی کی دشمنی میں بھی پیش پیش ہیں جبکہ اہل تشیع نے ثابت کرکے دکھایا ہے کہ ان کی جان تو جاسکتی ہے مگر انہیں ملک کے خلاف کسی بھی معاندانہ اقدام پر آمادہ نہیں کیا جاسکتا۔ اہل تشیع نے پاکستان کی وفاداری کا اعلان اپنے خون سے کیا ہے مگر پاکستان کا کریم چوسنے والے اور پاکستان کے تحفظ کے نام پر مراعات پانے والے ادارے اور ایجنسیاں ان کے دشمنوں سے ملے ہوئے نظر آتے ہیں اور اہل تشیع کے دشمن بھی درحقیقت پاکستان کے دشمن ہیں۔ شیعہ ڈاکٹروں کے قتل عام کا یہ نیا سلسلہ کس ہدف سے شروع ہوا ہے؟ کون اس سلسلے کے پیچھے ہے؟ ساٹھ سے زائد ایجنسیوں، مسلح افواج، ایف سی، رینجرز، پولیس اور لیویز جیسے اداروں کا ملک جو اکلوتا ایٹمی مسلم ملک کہلاتا ہے، میں قاتلوں کی عدم گرفتاری اور جرم و سزا کے نظام کی معطلی کا کیا مطلب ہوسکتا ہے؟ کیا یہ ملک اپنے اندر اپنا قانون نافذ نہیں کرسکتا؟یہ اور اس جیسے دسیوں سوالات اہل تشیع کی آنکھوں کے سامنے سے مسلسل مارچ کرکے گذرتے ہین جن میں سے ایک سوال ان کے عزیزوں کی شہادت کی وجوہات و اسباب سے تعلق رکھتا ہے مگر ابھی تک ان کو اطمینان بخش جواب نہیں مل سکا ہے۔  کہا جاتا ہے کہ یہ سب پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کی غرض سے ہورہا ہے مگر جب قاتلوں کے پیچھے ایجنسیوں اور اداروں کا ہاتھ دکھائی دیتا ہے تو یہ سوال سماعتوں میں گونجنے لگتا ہے کہ یہ کونسا پاکستان ہے جس کی حفاظت کے لئے یہ لوگ ملک کو غیر مستحکم کرنے والے عناصر کا ہاتھ بٹا رہے ہیں!؟........../110

 بشکریہ از شیعیت نیوز