17 اگست 2010 - 19:30

غزہ کے بھوکے پیاسے محصورین کیلئے امدادی سامان لے جانے والے بحری بیڑے پر اسرائیلی حملے کے خلاف برطانیہ بھر میں احتجاج جاری ہے

غزہ محصورین کے لئے امدادی سامان لے جانے والے قافلے پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف برطانیہ بھر میں احتجاج جاری ہے اور ارکان پارلیمنٹ، کونسلرز، کمیونٹی شخصیات اور تمام طبقوں سے تعلق رکھنے والوں نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ مذمت کرنے والوں میں یورپی پارلیمنٹ کے رکن سجاد کریم، برنلے کے ایم پی گورڈن برٹ وسل بھی شامل ہیں۔  برنلے کی مسجد ابراہیم میں منعقدہ احتجاجی جلسے میں غزہ کے بھوکے پیاسے محصورین کیلئے امدادی سامان لے جانے والے بحری بیڑے پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی گئی اور اس حملے کو اسرائیلیوں کی ننگی جارحیت اور سنگ دلی قرار دیا گیا۔

 سینئر رہنما خواجہ الیاس نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے جس طرح سے امدادی سامان لے جانے والے قافلے پر بیدردی سے حملہ کر کے بے گناہ انسانوں کا قتل عام کیا ہے اس ظلم کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انسانی حقوق تحریک انصاف ونگ کے شاہد دستگیر خان نے کہا کہ اسرائیل اور لاہور کے افسوسناک واقعات کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے برطانیہ میں تمام انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ فوری طور پر ایک اجلاس بلا کر اس جارحیت اور سفاکانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے ہاؤس آف کامنز اور وزیراعظم کو قرارداد پیش کریں اور اسرائیلیوں کی اس غنڈہ گردی کا سختی سے نوٹس لیں۔

متعدد رہنماؤں نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے غزہ کی امداد روکنے کے لئے جو انداز اختیار کیا ہے وہ بدترین ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے فلسطینی عوام کے لئے امدادی سامان لے جانے والے بحری جہاز پر اسرائیلی حملہ کھلی جارحیت ہے اس واقعہ میں شہید اور زخمی کئے جانے والے افراد سے عالمی برادری بھرپور یکجہتی کرے۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ جو بھی مسلمان ممالک اسرائیل کے ساتھ سفارتی یا سیاسی تعلقات رکھے ہوئے ہیں وہ فوراً یہ تعلقات منقطع کریں۔ اپنے ممالک سے اسرائیلی سفیر واپس بھیجیں اور اپنے اپنے سفیر اسرائیل سے واپس بلائیں۔

  بین الاقوامی سمندری حدود میں داخل ہو کر اسرائیلی فوجیوں نے اس نہتے قافلے پر حملہ کیا اور نہ صرف امدادی کارکنوں کو یرغمال بنایا بلکہ کئی کو مار بھی دیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی اسرائیلی بربریت کسی بھی مذہب اور مہذب قوم کے لئے قابل قبول نہیں۔ عالمی برادری کو کسی قسم کے لحاظ کے بجائے اسرائیل کو سخت سے سخت سزا دینی چاہئے

..........................

/152