جسٹس آلوک کمار سنگھ نے سی بی آئی کی نظر ثانی کی عذر داری کو یہ کہتے ہوئے خارج کردیا کہ رائے بریلی کی خصوصی عدالت میں ان رہنماوؤں پر بابری مسجد کے انہدام کا مقدمہ پہلے سے چل رہا ہے، اس لئے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔یاد رہے کہ مقامی عدالت نے 4 مئی 2001 کو ان رہنماوؤں پر کیس نمبر 1997/92 میں مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں دی تھی، جس کے خلاف سی بی آئی نے نظر ثانی کی عذر داری داخل کی تھی۔ سی بی آئی نے اس معاملہ میں 21 لوگوں کو ملزم بنایا تھا جس میں سے یہ آٹھ رہنما بھی ہیں جن کے خلاف رائے بریلی کی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے۔ ان 21 ملزمان میں سے راج ماتا وجے راجے سندھیا، پرم ہنس، رام چندر داس اور شیوسینا کے ایک رہنما ستیش ناگر کا انتقال ہوچکا ہے۔ اس کیس میں سی بی آئی مسٹر اڈوانی، مرلی منوہر جوشی ونے کٹیار، بی جے پی سے نکالے گئے کلیان سنگھ اوما بھارتی، شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے وشو ہندو پریشد کے اشوک سنگھل، وشنوہری ڈالمیا‘ گری راج کشور، سادھوی رتمبرا، مہنت اویدناتھ، رام ولاس ویدانتی‘ جگدیش منی راج، بےکنٹھ لال، نرتیہ گوپال داس، دھرم داس، مہنت اور موریشور سارویے کو ملزم بتایا تھا۔ اس کے علاوہ تین اور لوگ تھے جن کا انتقال ہوچکا ہے۔ان ملزمان میں سے مسٹر اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھرتی ونے کٹیار، آچارےہ گری راج کشور، وشنو ہری ڈالما، سادھوی رتمبرا اور اشوک سنگھل دونوں معاملوں میں ملزم ہیں۔سی بی آئی کی دلیل تھی کہ ان لوگوں پر لکھنوؤ میں مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔ تاہم عدالت نے اس دلیل کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور عدالت کے 2001 کے فیصلے کو برقرار رکھا اور سی بی آئی کی طرف سے داخل کی گئی نظر ثانی کی درخواست خارج کردی۔
...........
/110