بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ یہ تحریر ان دنوں کی روداد ہے جب بورس یلتسین کے وزیر خارجہ آندرے کوزیریف (Andrei Kozyrev) نے قومی مفادات کو واشنگٹن کی مسکراہٹ پر قربان کر دیا، نیٹو نے تمام تحریری اور زبانی وعدوں کے برعکس مشرق کی طرف چھلانگ لگائی، سرخ فوج کے ٹینک گروزنی کی گلیوں میں مغرب کے مہمل پیروکاروں کے ہاتھوں راکھ کا ڈھیر بن گئے، اور ماسکو کے نم زدہ اور مرطوب تہہ خانوں میں ایک مکتبِۂ فکر نے انگڑائی لی جس نے قسم کھائی کہ اس 'مغرب کی طرف کے، پشت میں لگے خنجر' کا بدلہ مغربی تہذیب سے ضرور لے گا۔
تقابلی تاریخ نگاری میں، شاید ہی کسی منظر نے ـ 1920 کی دہائی کے جرمنی اور 1990 کی دہائی کے روس کی حیران کن مشابہت جتنا ـ سیاسی فلاسفروں کے ذہن کو مصروف کیا ہو۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد جرمنی نے اپنی سلطنت کھو دی، یہ ملک معاہدۂ ورسائے (Treaty of Versailles) کے توڑ کر رکھنے والے معاوضوں اور جرمانوں کے بوجھ تلے دب گیا، چیکوسلواکیہ اور پولینڈ میں لاکھوں جرمن نسل کے لوگ رہ گئے، اور متزلزل "جمہوریہ وایمار (Weimarer Republik)" افراطِ زر اور افراتفری کے بھنور میں پیدا ہوئی؛ ایسا ڈھانچہ جو جرمنوں کے اجتماعی شعور میں تلخ اصطلاح 'پشت میں خنجر' (Dolchstoßlegende) کے ساتھ گھل مل گیا؛ اس عقیدے کی صورت میں کہ جرمن فوج میدان میں نہیں ہاری، بلکہ غدار سیاستدانوں اور لبرل دانشوروں نے ملک کی پیٹھ میں خنجر گھونپا؛ اور یہی تصور 70 سال بعد، وہی منحوس روح یوریشیا کے جغرافیے کے جسم میں حلول کر گئی: "روسی وایمار سنڈروم"۔
سوویت یونین نے ـ کسی عالمی جنگ میں ایک گولی بھی نہیں چلائی تھی اور اس کے دارالحکومت پر دشمن افواج کا قبضہ بھی نہیں ہؤا تھا، "بیلوویژسکایا" (Belovezhskaya) کے جنگلاتی محل میں ـ تین شرابیوں "بورس یلتسین (Boris Yeltsin)، اسٹانیسلاو شوشکیوچ (Stanislav Shushkevich) اور لئونید کراوچوک (Leonid Kravchuk)" کی محفل میں ان ہی تین افراد کے ہاتھوں ـ اپنی تحلیل کا اعلان کر دیا۔ عجلت زدگی میں ہونے والے ان دستخطوں کے بعد جو کچھ ہؤا، وہ نہ صرف ایک سیاسی نظام کا زوال تھا، بلکہ ایک تہذیبی جسم کا نامیاتی طور پر بکھر جانا تھا جو کم از کم تین صدیوں سے مشترک خون اور ثقافت سے جڑا ہؤا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مہدی سیف تبریزی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ