اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، کویت کے ممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ حسین عبداللہ معتوق کو بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے پر مختلف دینی شخصیات اور مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ تازہ ترین ردعمل میں متعدد اہل سنت علما نے بھی اس فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے عدل و انصاف اور امت مسلمہ کے مفادات کے منافی قرار دیا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کے اتحاد اور خطے کے استحکام کے لیے ایسے فیصلوں کے خطرناک نتائج سے خبردار کیا ہے۔
کویت کی فوجداری عدالت نے 26 اکتوبر 2026 کو ایک سکیورٹی مقدمے میں شیخ حسین معتوق اور دو دیگر افراد کو سزائے موت سنائی تھی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق، شیخ معتوق کو یہ سزا ان کی غیر موجودگی میں سنائی گئی۔ اس فیصلے کے ناقدین نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات خطے میں مذہبی اختلافات کو مزید ہوا دے سکتے ہیں۔
شیخ معتوق کے خلاف فیصلہ حیران کن ہے
لبنان کی تحریک علمائے مسلمین کی مجلس امناء کے سربراہ شیخ غازی حنینہ نے کویت کے ممتاز شیعہ عالم دین شیخ حسین معتوق کے حق پر مبنی اور مزاحمت کی حمایت کرنے والے مؤقف کو سراہتے ہوئے ان کے خلاف عدالتی فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا اور کویت کے امیر سے اس پر نظرثانی کی اپیل کی۔
انہوں نے شیخ حسین معتوق کی دینی اور جدوجہد پر مبنی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
’’ہمارا عقیدہ ہے کہ فاضل، مجاہد اور مزاحمت کے حامی شیخ حسین معتوق ان شخصیات میں شامل ہیں جن کا قرآن کریم نے واضح طور پر ذکر کیا ہے۔ یہ وہ شخصیات ہیں جو قرآن اور سیرتِ محمدی کے حقیقی راستے کی حمایت کرتے ہوئے ہر طرح کے امتیاز سے بالاتر ہوکر انسانیت کی خدمت کرتی ہیں، بالخصوص فلسطین کے مظلوم عوام کی، جو آج اپنی سرزمین پر ظلم و ستم برداشت کر رہے ہیں۔‘‘
اس اہل سنت عالم دین نے فلسطین کی حمایت میں شیخ معتوق کے مؤقف کو سراہتے ہوئے مزید کہا:
’’شیخ حسین معتوق ہمیشہ ثابت قدمی اور حق پسندی کے ساتھ حق کے دفاع کے لیے کھڑے ہوئے اور پوری صراحت و جرأت کے ساتھ کلمہ حق بلند کرتے رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے شیعہ عالم دین کے خلاف فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا:
’’ہمیں اس بات پر حیرت ہے کہ ایسی شخصیت کو اپنے حق پر مبنی مؤقف کی وجہ سے کویت کے عدالتی نظام کے فیصلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، حالانکہ ہم اس ملک کے عوام اور قیادت کا بہت احترام کرتے ہیں۔‘‘
شیخ غازی حنینہ نے کویت کے اعلیٰ ترین سیاسی منصب پر فائز امیر سے اس فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کرتے ہوئے کہا:
’’ہم کویت کے امیر سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس فیصلے پر نظرثانی کریں، کیونکہ شیخ حسین معتوق اسی باعزت کویتی قوم کے فرزند ہیں جو لبنان اور فلسطین کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور ہر اس انسان کی مدد کرتی رہی ہے جو تعاون اور حمایت کا مستحق ہے۔‘‘
انہوں نے آخر میں شیخ معتوق کی ثابت قدمی اور دینی اصولوں سے وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شیخ حسین معتوق ان چند شخصیات میں سے ہیں جو حق کے راستے پر ثابت قدم رہتی ہیں۔
شیخ معتوق کے خلاف فیصلہ واپس لیا جائے، کویت کو اختلافات کا مرکز نہ بنایا جائے
لبنان کی تحریک امت کے سیکرٹری جنرل شیخ عبداللہ جبری نے بھی شیخ حسین معتوق کے خلاف فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کویت کے ذمہ داران اور بااثر شخصیات سے اسے منسوخ کرانے کے لیے اقدامات کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے اسلامی معاشروں میں علما کے بلند مقام کا ذکر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ دینی شخصیات کی عزت و حرمت کو نشانہ بنانے کے معاشرے اور مسلمانوں کے باہمی تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
اس اہل سنت عالم دین نے شیخ معتوق کے خلاف فیصلے کو غیر دانشمندانہ اور غلط قرار دیتے ہوئے کویتی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس پر نظرثانی کریں تاکہ اختلافات اور اندرونی کشیدگی کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔
شیخ عبداللہ جبری نے عالم اسلام کے موجودہ حساس حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان قومیں مشترکہ خطرات اور چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔ ایسے فیصلے کرنا جن سے انتشار اور تفرقہ بڑھے، بالآخر امت مسلمہ کے دشمنوں کے مفاد میں ہوگا۔
انہوں نے بعض عرب ممالک میں دینی اور سماجی شخصیات کے خلاف اسی نوعیت کے فیصلوں کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات بعض مواقع پر اندرونی اختلافات اور جھڑپوں کا باعث بنے ہیں اور دشمنوں کو ان حالات سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا ہے۔
شیخ عبداللہ جبری نے کویتی معاشرے کے مختلف طبقات اور مذاہب کے درمیان پرامن بقائے باہمی کو بنیادی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی اور سماجی تنوع کے باوجود اس ملک کے عوام کو بھائی چارے، یکجہتی اور باہمی احترام کے ماحول میں زندگی گزارنی چاہیے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ شیخ حسین معتوق کے خلاف فیصلہ منسوخ کرنا کویت کے قومی اتحاد کے تحفظ اور امت مسلمہ کی عزت و سربلندی کے لیے ایک اہم قدم ہوگا۔
شیخ معتوق کو سزائے موت دینا فلسطین کی حمایت روکنے کے لیے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش ہے
لبنان کی تحریک علمائے مسلمین کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سربراہ شیخ حسان عبداللہ نے بھی شیخ حسین معتوق اور اس مقدمے میں سزا پانے والے دیگر افراد کو سزائے موت سنانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ظالمانہ اور غیر منصفانہ فیصلہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ملزم کو قانونی دفاع کا موقع دیے بغیر اس کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنایا جانا عدالتی کارروائی کے طریقہ کار کے بارے میں سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شیخ معتوق گزشتہ تین برس سے کویت سے باہر ہیں اور سوال اٹھایا کہ کسی ملزم کو اپنے دفاع کا حق دیے بغیر اس کے خلاف اتنی سخت سزا کیسے سنائی جاسکتی ہے؟
اس اہل سنت عالم دین نے سزائے موت کے فیصلے کو محض عدالتی کارروائی سے بڑھ کر ایک اقدام قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد کویتی معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانا اور مظلوم اقوام، بالخصوص فلسطینی عوام کے حق میں آواز اٹھانے سے لوگوں کو روکنا ہے۔
شیخ حسان عبداللہ نے اس اقدام کو صیہونی ریاست کے لیے ایک سیاسی پیغام بھی قرار دیا اور کہا کہ ایسے فیصلے ان اداروں اور تحریکوں کو کمزور کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں جو فلسطین کی آزادی کے لیے سرگرم ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ فلسطین کی حمایت کرنے والے کویتی نوجوان بھی اس طرزِ عمل کے اثرات سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ ان کے مطابق، یہ فیصلہ انصاف پسند عوامی تحریکوں کے خلاف کھلی کارروائی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے کے ذریعے امریکہ کو بھی یہ پیغام دیا جاسکتا ہے کہ کویتی حکومت خطے میں واشنگٹن کی پالیسیوں کے ساتھ اپنی وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ان کے بقول، ان پالیسیوں کا رخ اسلامی جمہوریہ ایران اور مزاحمتی و فلسطینی تحریکوں کے خلاف ہے۔
شیخ معتوق اسلامی اتحاد کے لیے سرگرم ممتاز اور مخلص شخصیت ہیں
لبنان کی تحریک علمائے مسلمین کے شعبہ خارجہ تعلقات کے ذمہ دار شیخ ماہر مزہر نے بھی شیخ حسین معتوق کے خلاف فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے قرآن کریم کی اس آیت کا حوالہ دیا:
’’اور ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ ظالموں کے اعمال سے بے خبر ہے۔‘‘
انہوں نے شیعہ عالم دین کے خلاف عائد الزامات پر تنقید کرتے ہوئے ظلم، بہتان تراشی اور دوسروں کے حقوق پامال کرنے کے لیے طاقت و منصب کے استعمال کے خطرناک نتائج سے خبردار کیا۔
ان کے خیال میں ایسے اقدامات امریکی پالیسیوں سے متاثر ہوکر صیہونی ریاست کے مفادات کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
شیخ ماہر مزہر نے شیخ حسین معتوق کو ایک مقبول، مخلص اور حق گو شخصیت قرار دیا جو برسوں سے امت مسلمہ کے اتحاد، مسلمانوں کے درمیان یکجہتی اور دینی اقدار کے فروغ کے لیے سرگرم ہیں۔
انہوں نے قرآن کریم کی اس تعلیم ’’اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو‘‘ کے عملی نفاذ کے لیے شیخ معتوق کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس دینی شخصیت میں مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی مخلصانہ کوششوں، سچائی اور حق گوئی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔
اس اہل سنت عالم دین نے کویت کے بعض حکام اور سیاسی شخصیات پر بھی تنقید کی اور شیخ معتوق کے خلاف الزامات کو غلط اور کھلا ظلم قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات کرنے والوں کو اللہ کے حضور جواب دہ ہونا پڑے گا۔
شیخ ماہر مزہر نے آخر میں امید ظاہر کی کہ اس مقدمے کی حقیقت سامنے آئے گی اور عوام خود فیصلہ کرسکیں گے کہ اس معاملے میں کون حق پر ہے اور کون غلط۔
شیخ معتوق کے خلاف فیصلہ مزاحمت اور اسلامی اتحاد کو نقصان پہنچانے کے لیے ہے
لبنان میں سفارتی تعلقات کے مشیر شیخ مؤمن الرفاعی نے بھی شیخ حسین معتوق کو سزائے موت سنانے کے فیصلے کی واضح الفاظ میں مذمت کی اور عرب و اسلامی ممالک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان کے بقول امریکہ اور صیہونی ریاست کے مفادات سے ہم آہنگ ظالمانہ عدالتی فیصلوں اور اقدامات پر خاموش نہ رہیں۔
انہوں نے اس فیصلے پر دستخط کرنے والی عدالت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام مزاحمتی تحریکوں کو کمزور کرنے اور امت مسلمہ کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کے ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے۔
اس اہل سنت عالم دین نے کہا کہ ایسے اقدامات کا نشانہ صرف ایک دینی شخصیت نہیں ہوتی بلکہ اس سماجی اور فکری ماحول کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے جہاں مزاحمت کے علما پرورش پاتے ہیں اور وہ عوام بھی ان کارروائیوں کی زد میں آتے ہیں جو ان علما کے افکار اور رہنمائی پر عمل کرتے ہیں۔
شیخ مؤمن الرفاعی نے اسلامی تعلیمات کے فروغ اور مزاحمت کے جذبے کو مضبوط بنانے میں علما کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شیخ معتوق جیسی شخصیات عوام میں شعور بیدار کرنے، اسلام ناب محمدی (ص) کی تعلیمات واضح کرنے اور اسلامی معاشرے کی رہنمائی مزاحمت اور آزادی کے راستے پر کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔
انہوں نے شیخ حسین معتوق اور ان کے حامیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کی شدید مذمت کی اور عرب و اسلامی ممالک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ امریکہ اور صیہونی ریاست کی تسلط پسندانہ پالیسیوں کے خلاف واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کریں۔
شیخ الرفاعی کے مطابق، خطے کے موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ اسلامی ممالک کے عوام ایسے اقدامات کے خلاف مشترکہ مؤقف اپنائیں جو مزاحمت اور مسلمانوں کے اتحاد کو کمزور کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
گزشتہ چند روز کے دوران حوزہ علمیہ قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم اور متعدد دیگر دینی و ثقافتی اداروں کے علاوہ مختلف ممالک کی دینی شخصیات اور کارکنوں نے بھی آیت اللہ معتوق کے خلاف فیصلے کی مذمت کی ہے۔
ان اداروں اور شخصیات نے بحرین اور کویت سمیت خطے کے بعض ممالک میں شیعہ مسلمانوں اور پیروان مکتب اہل بیت (ع) کے حقوق و آزادیوں کی پامالی، ان کے خلاف جبر و تشدد اور شیعہ شہریوں، علما، خطبا، واعظین، دانشوروں اور ممتاز سماجی شخصیات کی خودسرانہ گرفتاریوں کو فرقہ وارانہ پالیسیوں پر مبنی جابرانہ اقدامات قرار دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ