اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، نائجیریا کی اسلامی تحریک کے سربراہ شیخ ابراہیم زکزاکی نے دارالحکومت ابوجا میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس ’’نوجوان اور اسلامی تحریک کا مستقبل‘‘ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی تحریک کی راہ میں نوجوانوں کی ذمہ داریوں اور معاشرے میں دین کے قیام کے مفہوم پر روشنی ڈالی۔ اس کانفرنس کا اہتمام شہید احمد زکزاکی کی تنظیم جیش (JASAZ) نے کیا تھا۔
شیخ زکزاکی نے انسانی زندگی میں جوانی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس دور کو بامقصد سرگرمیوں اور عبادت کے لیے استعمال کرنا ضروری ہے۔ ان کے بقول، ’’جوانی زندگی کے محض چند سالوں کا نام نہیں، بلکہ یہ صلاحیت اور جدوجہد کا دور ہے۔‘‘
نائجیریا کی اسلامی تحریک کے سربراہ نے ان خیالات پر تنقید کی جن کے مطابق وسائل اور طاقت کی کمی یا معاشرے کے تمام افراد کے مسلمان نہ ہونے کی وجہ سے اسلامی نظام کا قیام ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ سوچ دین کے قیام کے مفہوم کو درست طور پر نہیں سمجھتی۔
شیخ ابراہیم زکزاکی نے دین کے قیام اور معاشرے کے تمام افراد کے مسلمان ہونے کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے کہا، ’’ہماری تحریک شیعہ مذہب کی دعوت نہیں دیتی، بلکہ دین کے قیام کی دعوت دیتی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ دین کے قیام کا مطلب خدائی قوانین کی حکمرانی قائم کرنا اور ایسے قوانین کی منظوری کو روکنا ہے جو احکامِ الٰہی سے متصادم ہوں۔ ان کے مطابق، اسلامی نظام کی بنیاد خدائی قوانین پر ہونی چاہیے اور اس کے قوانین احکامِ الٰہی کے خلاف نہیں ہونے چاہییں۔
شیخ زکزاکی نے اس بات کی وضاحت کے لیے شیخ عثمان بن فودیو کی جدوجہد اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مثال پیش کی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایران میں یہودیوں سمیت دیگر مذاہب کے پیروکار بھی آباد ہیں۔ اس مثال کی روشنی میں انہوں نے زور دیا کہ اسلامی نظام کے قیام کے لیے معاشرے کے تمام افراد کا مسلمان ہونا شرط نہیں ہے۔
نائجیریا کی اسلامی تحریک کے سربراہ نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں اسلامی تحریک کو کچلنے کی دشمنوں کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی اور بالآخر فتح اسلامی تحریک اور حق کے راستے کی ہوگی۔
شیخ ابراہیم زکزاکی نے آخر میں حق و حقیقت کی حمایت میں ثابت قدم رہنے کی ضرورت پر زور دیا اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ محض تماشائی بن کر نہ رہیں، بلکہ اپنے مؤقف کا اظہار کریں اور عملی طور پر حصہ لیتے ہوئے دینِ الٰہی کے قیام کی راہ میں اپنا کردار ادا کریں۔
آپ کا تبصرہ