16 اکتوبر 2026 - 15:35
عراق میں داعش کے حملے، بدامنی کی واپسی کا خطرہ بڑھ گیا

عراق کے شہر کرکوک کے اطراف داعش کے حالیہ حملوں، جن میں دو عراقی فوجی شہید ہوئے، نے جنگ سے متاثرہ علاقوں میں دوبارہ بدامنی پھیلنے کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، رواں ماہ عراق کے شہر کرکوک کے اطراف میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے والے حملوں نے ملک میں دوبارہ بدامنی پھیلنے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ تازہ ترین حملہ دو روز قبل ہوا، جس میں عراقی فوج کے ایک بریگیڈیئر جنرل اور ایک سپاہی نے جام شہادت نوش کیا۔ ان خدشات کا دائرہ صوبہ صلاح الدین اور صوبہ الانبار تک بھی پھیل سکتا ہے، جہاں داعش کے خلاف جنگ کی یادیں آج بھی لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہیں۔

لبنانی اخبار الاخبار کی رپورٹ کے مطابق، عراقی حکام کا کہنا ہے کہ داعش اب شہروں پر قبضہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، تاہم حالیہ کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گروہ دور دراز علاقوں اور سکیورٹی کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر اچانک حملے کرتا ہے۔ اس صورت حال نے ان سوالات کو جنم دیا ہے کہ عراقی حکومت سکیورٹی کے ان خلا کو پُر کرنے میں کس حد تک کامیاب ہو سکتی ہے۔

بدھ کے روز کرکوک سے تقریباً 80 کلومیٹر جنوب میں ایک علاقے میں تلاشی کی کارروائی کے دوران عراقی فوج کے گشتی دستے کو بم دھماکے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دو فوجی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ اس سے قبل رواں ماہ 5 اکتوبر کو مسلح افراد نے کرکوک کے جنوب مغرب میں واقع الحویجہ شہر کے قریب عراقی وفاقی پولیس کی ایک چوکی پر حملہ کیا تھا، جس میں ایک پولیس اہلکار شہید اور چار دیگر زخمی ہوگئے تھے۔

امریکی اتحاد کا انخلا اور عراق کی انٹیلی جنس صلاحیت پر سوالات

یہ حملے 30 ستمبر کو عراق سے امریکہ کی سربراہی میں قائم بین الاقوامی اتحاد کے انخلا کی تکمیل کے بعد ہوئے ہیں۔ اس پیش رفت نے بعض حلقوں میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ نئے مرحلے سے عراقی فورسز کی انٹیلی جنس اور دشمن کی نقل و حرکت کا پتا لگانے کی صلاحیت کس حد تک متاثر ہوسکتی ہے۔

تاہم، امریکی اتحاد کے انخلا اور ان حملوں کے ایک ہی عرصے میں ہونے سے ان دونوں کے درمیان براہ راست تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ کرکوک کے اطراف سکیورٹی کے مسائل حالیہ واقعات سے کہیں پرانے ہیں۔ ان کی ایک وجہ وفاقی فورسز اور پیشمرگہ کے دائرۂ اختیار میں باہمی پیچیدگیاں، جبکہ دوسری وجہ وسیع زرعی اور دشوار گزار علاقے ہیں۔

اس حوالے سے تزویراتی امور کے ماہر سیف رعد کا کہنا ہے کہ شہروں پر قبضہ کھونے اور عوام کے بڑے حصے کی حمایت سے محروم ہونے کے بعد داعش نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرلی ہے۔ ان کے مطابق، یہ گروہ اب سماجی اور قبائلی حمایت پر انحصار کرنے کے بجائے جغرافیائی علاقوں کو اپنے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کرتا ہے، جن میں غاریں، وادیاں، پہاڑ، ٹیلے اور آبادی سے دور مقامات شامل ہیں۔

رعد نے اخبار الاخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ داعش اب ماضی جیسی جنگی، مالی اور رسدی صلاحیت نہیں رکھتی، جس کی مدد سے وہ پہلے شہروں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوتی تھی۔

ان کے مطابق، اس گروہ کی صلاحیتوں میں کمی کی وجہ اس کے افراد بھرتی کرنے، مالی وسائل جمع کرنے اور مدد فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف سکیورٹی اور انٹیلی جنس کارروائیاں، نیز انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر عراقی فورسز کے فضائی حملے ہیں۔

داعش کی کمزور ہوتی طاقت خطرے کے خاتمے کی علامت نہیں

اس کے باوجود سیف رعد نے خبردار کیا کہ داعش کی علاقوں پر قبضہ کرنے کی صلاحیت کم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا خطرہ ختم ہوگیا ہے، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں مسلسل نگرانی اور کنٹرول برقرار رکھنا مشکل ہو۔ ان کے بقول، اس صورت حال نے عراق کے سنی آبادی والے علاقوں میں فوری طور پر تشویش پیدا کردی ہے اور داعش کی واپسی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

عراق کے سکیورٹی اداروں کی صلاحیت واضح کرنے کے لیے رعد نے کرکوک کے علاقے آلتون کوپری میں ایک منصوبے کو ناکام بنانے کا حوالہ دیا، جس کے تحت خودمختاری کے دن سے متعلق اجتماعات اور تقریبات کو نشانہ بنایا جانا تھا۔ ان کے خیال میں، عراقی سکیورٹی فورسز کی جانب سے اس نیٹ ورک کا پتا لگا لینا اس بات کی علامت ہے کہ انہیں خطرات کی نگرانی اور ان کا تعاقب کرنے کی صلاحیت حاصل ہے۔

دوسری جانب، کرکوک کے اطراف بار بار ہونے والے حملوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ پیشگی سکیورٹی کارروائیاں داعش کے خفیہ ٹھکانوں اور سرگرمیوں کے لیے دستیاب جگہوں کو بند کرنے میں کس حد تک مؤثر ثابت ہوسکتی ہیں۔

سیف رعد کا خیال ہے کہ ان خدشات کا تعلق صرف سکیورٹی اداروں کی کارکردگی سے نہیں بلکہ سیاسی فیصلوں سے بھی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہتھیاروں کو ریاست کے اختیار میں دینے کی بحث، خطے میں ایک دوسرے کو دی جانے والی دھمکیاں اور عراق کے علاقائی و بین الاقوامی تنازعات میں گھسیٹے جانے کا امکان، یہ سب ایسے عوامل ہیں جو ملک کے سنی آبادی والے صوبوں میں تشویش پیدا کررہے ہیں۔

ان علاقوں کے لوگوں کو خدشہ ہے کہ کہیں ان کے صوبے ایک بار پھر لڑائی، بدامنی اور نقل مکانی کا مرکز نہ بن جائیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha