15 اکتوبر 2026 - 15:32
مسلم علما تفرقہ پھیلانے والوں کے خلاف اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، احمد الریسونی

عالمی اتحادِ علمائے مسلمین کے سابق سربراہ ڈاکٹر شیخ احمد الریسونی نے امتِ مسلمہ کے اتحاد کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ علما، مبلغین اور مسلم مفکرین مذہبی، سیاسی اور قومی اختلافات کو ہوا دینے والی کوششوں کا مقابلہ کرنے اور مسلمانوں کے درمیان یکجہتی مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پانچویں بین الاقوامی اجلاس ’’بعثتِ امتِ محمدؐ‘‘ کا انعقاد بدھ  کو عالمی ادارے ’’قادمون‘‘ کے تعاون سے کیا گیا۔ عالمی اتحادِ علمائے مسلمین کے سابق سربراہ ڈاکٹر شیخ احمد الریسونی نے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کی سیرت میں اتحاد کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ پیغمبر اسلام (ص) مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی بنیاد رکھنے والے تھے۔ آپؐ نے مہاجرین اور انصار، اوس اور خزرج، نیز مکہ اور مدینہ کے درمیان بھائی چارے اور یکجہتی کا رشتہ قائم کیا۔ عربوں کے درمیان اتحاد کا ایک مضبوط مرکز بنا کر آپؐ نے امتِ مسلمہ کی تشکیل اور اس کے استحکام کی راہ ہموار کی۔

الریسونی نے کہا کہ پیغمبر اکرم (ص) کے بعد خلفائے اسلام اور اسلامی مبلغین نے بھی اس اتحاد کو وسعت دینے میں کردار ادا کیا۔ بعد کے ادوار میں تبلیغی، علمی اور جہادی سرگرمیوں کے نتیجے میں خطے کی مختلف قومیں اسلام کے پرچم اور ’’لا الٰہ الا اللہ، محمد رسول اللہ‘‘ کے نعرے تلے جمع ہوئیں۔

عالمی اتحادِ علمائے مسلمین کے سابق سربراہ نے اسلامی سرزمینوں کے تاریخی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج جن علاقوں کو مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور مغربی ایشیا کے بعض حصوں کے نام سے جانا جاتا ہے، وہ اسلام کے پھیلاؤ سے پہلے بڑی سلطنتوں اور آمرانہ حکومتوں کے زیرِ تسلط تھے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلمانوں کی فتوحات کو استعمار اور قبضے کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ انہیں اس دور کی طاقتوں کے تسلط سے خطے کی قوموں کی آزادی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے استعمار، بیرونی مداخلتوں اور صلیبی حملوں کو مسلمانوں کے اتحاد کو کمزور کرنے والے عوامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان مداخلتوں کے نتیجے میں مسلم قومیں تقسیم ہوئیں، سیاسی سرحدیں قائم کی گئیں اور اسلامی سرزمینیں ایک دوسرے سے جدا ہو گئیں۔ اس عمل نے مسلمانوں کے درمیان مشترکہ رشتوں کو بھی متاثر کیا۔

الریسونی نے امتِ مسلمہ کے اتحاد کی حفاظت میں علما کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مسلمان اپنا سیاسی اتحاد کھو چکے ہیں اور 50 سے زیادہ الگ الگ ممالک اور حکومتوں میں تقسیم ہیں، تاہم علما اب بھی مسلمانوں میں مشترکہ وابستگی اور امتِ اسلامیہ کی یکساں شناخت کو برقرار رکھنے اور مضبوط بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس شناخت کی بنیاد قرآن کریم کی تعلیمات میں موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ علما، مبلغین اور اسلامی مفکرین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان تحریکوں اور عناصر کے خلاف مضبوط مؤقف اختیار کریں جو مسلمانوں کے درمیان مذہبی، سیاسی، جغرافیائی اور قومی اختلافات کو گہرا کرنا چاہتے ہیں۔ اختلافات اور سرحدی تقسیم کو اسلامی بھائی چارے کو کمزور کرنے، دشمنی پھیلانے اور اندرونی و علاقائی تصادم کو ہوا دینے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔

عالمی اتحادِ علمائے مسلمین کے سابق سربراہ نے جاہلانہ تعصبات اور تفرقہ پیدا کرنے والے رجحانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ علما کو سچی اور جرأت مندانہ بات کے ذریعے مسلمانوں کو ایسے تعصبات سے خبردار کرنا چاہیے جو اختلاف اور جدائی کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے ساتھ انہیں مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کے جذبے کو بھی فروغ دینا چاہیے۔

انہوں نے آخر میں زور دیا کہ اسلامی اتحاد کو سیاسی مصلحتوں اور اختلافات سے بالاتر ہو کر اہمیت دی جانی چاہیے۔ مسلمانوں کو مختلف حکومتی نظاموں اور جغرافیائی سرحدوں کے باوجود حج، کانفرنسوں اور مشترکہ حمایت کے اظہار جیسے مواقع پر اپنے اسلامی رشتے اور مشترکہ شناخت کو برقرار رکھنا چاہیے۔

الریسونی نے کہا کہ علما اور مبلغین آگاہی پھیلانے، معاشرے کی رہنمائی کرنے اور اسلام کی مشترکہ اقدار پر زور دینے کے ذریعے مسلمانوں کے اتحاد کی حفاظت اور تفرقہ پیدا کرنے والے عوامل کا مقابلہ کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha