12 اکتوبر 2026 - 16:23
حزب اللہ کے نمائندے: مزاحمت برقرار اور طاقتور ہے

لبنان کی پارلیمنٹ میں حزب اللہ کے وفادارِ مزاحمت دھڑے کے نمائندے حسن عزالدین نے کہا ہے کہ مزاحمت پوری قوت کے ساتھ قائم ہے اور لبنان و فلسطین کے وجود کو لاحق خطرہ ختم ہونے تک عوام کے دفاع کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت ہی وہ راستہ ہے جس پر لبنانی اور فلسطینی عوام اپنی سرزمین، خودمختاری اور عوام کے دفاع کے لیے بھروسا کرسکتے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، حسن عزالدین نے جنوبی لبنان کے شہر صور میں اپنے دفتر میں فلسطین کی آزادی کے لیے قائم جمہوری محاذ کے ایک وفد سے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت لبنان میں اس محاذ کے سربراہ یوسف احمد کر رہے تھے۔ ملاقات میں صور کے علاقے میں محاذ کے ذمہ دار عبد کنعان، اس کی قیادت کے متعدد ارکان اور جبل عامل اول کے علاقے میں جماعتوں اور پناہ گزین کیمپوں کے امور کے ذمہ دار حاج خلیل حسین بھی موجود تھے۔

اس نشست میں لبنان اور فلسطین کی تازہ سیاسی و زمینی صورت حال اور پناہ گزین کیمپوں میں عوام کو درپیش حالات کا جائزہ لیا گیا۔

حسن عزالدین نے اس ملاقات کو دوستانہ اور مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران مقبوضہ فلسطین کی صورت حال، غزہ میں طے پانے والی مفاہمتوں کی خلاف ورزیوں اور مغربی کنارے میں اسرائیل کے اقدامات پر گفتگو ہوئی۔

لبنان کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے قتل و غارت، دیہات کی تباہی اور انہیں کھنڈرات میں تبدیل کرنے جیسے اقدامات، جو قبضے کے سلسلے کا حصہ ہیں، اس کی توسیع پسندانہ منصوبہ بندی اور لبنانی سرزمین پر قبضے کی خواہش کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے بقول، یہ اقدامات لبنان کی ریاست کے وجود اور اس کے تسلسل کے لیے خطرہ ہیں۔

حسن عزالدین نے مزاحمت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمت ہی وہ واحد راستہ ہے جس پر فلسطینی اور لبنانی عوام اپنی سرزمین، خودمختاری اور عوام کے دفاع کے لیے بھروسا کرسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل بات چیت اور مذاکرات کی زبان نہیں سمجھتا۔ لبنان کے سیاسی حکام نے براہِ راست مذاکرات کا جو راستہ اختیار کیا ہے، اس کے کئی ماہ گزرنے کے باوجود کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ نہ یہ مذاکرات جنگ بندی کا سبب بنے اور نہ ہی حملے رک سکے۔

لبنان کی پارلیمنٹ کے اس نمائندے نے آخر میں ملکی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سیاسی پالیسیوں اور طرزِ عمل پر نظرثانی کریں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ طریقۂ کار قومی مفادات اور لبنان کی خودمختاری کا تحفظ نہیں کرسکتا۔

انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ مزاحمت برقرار، مسلسل اور طاقتور ہے اور لبنان و فلسطین کے وجود کو لاحق خطرہ دور ہونے تک عوام کے دفاع کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha