اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پانچ یورپی انٹیلی جنس اداروں کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے فوجی اور دفاعی صنعت سے وابستہ کمپنیوں کے سربراہوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق، ان کوششوں کے جواب میں دفاعی کمپنیوں نے اپنے اعلیٰ عہدیداروں کی حفاظت اور ذاتی سلامتی کے انتظامات مضبوط بنا دیے ہیں۔
اخبار فنانشل ٹائمز کے دعوے کے مطابق، خطرات صرف بڑی دفاعی کمپنیوں کے سربراہوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ چھوٹی کمپنیوں کے سربراہ بھی اس کی زد میں ہیں۔ ان میں بالخصوص ڈرون اور دفاعی صنعت میں استعمال ہونے والے پرزے تیار کرنے والی کمپنیاں شامل ہیں۔
یورپ کے ایک اعلیٰ انٹیلی جنس عہدیدار نے خطرات میں اضافے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’یورپ میں خطرے کی سطح بڑھ گئی ہے، خواہ معاملہ املاک کا ہو یا افراد کا۔‘‘
انٹیلی جنس حکام کے دعوے کے مطابق، یوکرین جنگ میں روس کی فوجی پیش قدمی تعطل کا شکار ہونے اور روسی معیشت کو مشکلات کا سامنا ہونے کے دوران کریملن نے یورپ میں تخریبی کارروائیوں اور نام نہاد ’’مخلوط جنگ‘‘ کی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد یوکرین کی حمایت میں یورپی ممالک کے کردار کو کمزور کرنا بتایا گیا ہے۔
یورپی انٹیلی جنس اداروں نے یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ یورپی شہریوں کو قتل کرنے جیسی کارروائیاں، جنہیں ماضی میں روسی جاسوسی اداروں کے اندر بھی ایک ممنوع حد تصور کیا جاتا تھا، اب ان سرگرمیوں کا زیادہ نمایاں حصہ بنتی جا رہی ہیں۔
فنانشل ٹائمز کے دعوے کے مطابق، خطرات کا دائرہ پھیل رہا ہے اور روایتی اہداف کے علاوہ دفاعی صنعت کے پیداواری اور تکنیکی شعبوں سے وابستہ افراد بھی ان خطرات کی زد میں آ گئے ہیں۔
یہ انتباہات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یوکرین جنگ جاری رہنے کے باعث یورپی ممالک نے کیف کے لیے اپنی فوجی اور صنعتی حمایت برقرار رکھی ہوئی ہے۔ دفاعی کمپنیاں یوکرین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اسلحہ اور سازوسامان فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کمپنیوں کے سربراہوں اور ملازمین کو نشانہ بنائے جانے سے نہ صرف ان کی ذاتی سلامتی کے حوالے سے خطرات بڑھ سکتے ہیں بلکہ یورپ کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کے تحفظ اور اس کی سرگرمیاں جاری رکھنے کے بارے میں بھی تشویش پیدا ہو سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ