اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کو نافذ ہوئے ایک سال گزر چکا ہے۔ یہ معاہدہ 10 اکتوبر 2025 کو نافذ ہوا تھا اور اس کا مقصد خونریزی روکنا تھا، لیکن زمینی صورت حال کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ فلسطینیوں کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔ صیہونی ریاست کی مسلسل خلاف ورزیوں، امدادی سامان کی آمد پر پابندیوں اور ملبہ ہٹانے و تعمیرِ نو میں رکاوٹوں کے باعث جنگ بندی محض ایک نازک سمجھوتا بن کر رہ گئی ہے۔
غزہ کے سرکاری اطلاعاتی دفتر کے اعداد و شمار کے مطابق، معاہدے کے پہلے سال، یعنی 10 اکتوبر 2025 سے 10 اکتوبر 2026 تک، صیہونی ریاست کی جانب سے 5304 سے زائد خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔ روزانہ اوسطاً 15 خلاف ورزیوں میں توپ خانے سے گولہ باری، ڈرون حملے اور رہائشی عمارتوں کے پورے حصوں کو تباہ کرنا شامل تھا۔
ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 1471 فلسطینی شہید اور مزید 5189 زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ، ’’زرد لکیر‘‘ کے قریب سے 200 سے زائد شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔ قابض فوج نے غزہ کے تقریباً 65 فیصد علاقے تک اپنا فوجی کنٹرول بھی بڑھا دیا۔
امدادی سامان کی آمد میں شدید کمی
انسانی صورت حال سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق، غزہ میں امدادی سامان لانے والے ٹرکوں کی تعداد میں شدید کمی رہی۔ ایک سال کے دوران صرف 74,506 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوئے، یعنی روزانہ اوسطاً 223 ٹرک۔ یہ معاہدے کے تحت طے شدہ روزانہ 600 ٹرکوں کی تعداد کا محض 34.4 فیصد ہے۔
اسی دوران بنیادی ضرورت کی 400 سے زائد اشیا، طبی و صفائی کے سامان، توانائی کے آلات اور بجلی پیدا کرنے والے جنریٹروں کی غزہ میں آمد پر پابندی عائد رہی۔
رپورٹ کے مطابق، سرحدی گزرگاہوں سے لوگوں کی آمدورفت بھی شدید مشکلات کا شکار رہی۔ صرف 13,785 افراد سفر کر سکے یا واپس آ سکے، جو متوقع تعداد کا 39 فیصد ہے۔ ان پابندیوں کے باعث ہزاروں زخمیوں اور مریضوں کو غزہ سے باہر علاج کے لیے جانے کا موقع نہیں مل سکا۔
ملبے تلے 8500 لاپتا افراد
لاپتا افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیوں کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قابض صیہونی ریاست کی جانب سے بھاری مشینری اور امدادی و بچاؤ کے خصوصی آلات غزہ میں داخل ہونے سے روکنے کے باعث 8500 سے زائد لاپتا افراد تباہ شدہ گھروں اور عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ امدادی ٹیمیں ان تک پہنچنے سے قاصر ہیں، جس کی وجہ سے سڑکیں کھولنے اور گرنے کے خطرے سے دوچار عمارتوں کو گرانے کا کام بھی متاثر ہو رہا ہے۔
غزہ میں رہنے والے 24 لاکھ فلسطینیوں، جن میں تقریباً 15 لاکھ بے گھر افراد شامل ہیں، کی معاشی مشکلات سردیوں کی آمد کے ساتھ مزید بڑھ گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ایک لاکھ 62 ہزار خیمے بوسیدہ ہو چکے ہیں اور ان میں سے 60 فیصد سے زائد تباہ ہو گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کے 95 فیصد باشندے مکمل طور پر فلاحی اداروں کے قائم کردہ باورچی خانوں اور محدود امداد پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ دو لاکھ سے زائد خاندان ہر روز ایک وقت کے کھانے کے حصول کے لیے کوشش کرتے ہیں۔
دوسری جانب، بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق، سردیوں کی آمد سے قبل تقریباً 20 لاکھ افراد کو فوری طور پر رہائش اور پناہ کے سامان کی ضرورت ہے، جبکہ سردیوں کی ضروریات کا صرف 17 فیصد پورا ہو سکا ہے۔
آپ کا تبصرہ