اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، کابل کے مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کی وزارت عدلیہ اور اراضی کے محکمے کے ایک وفد نے گزشتہ روز پیر 13 میزان کو امید سبز ٹاؤن کا دورہ کیا، جہاں گھروں کا جائزہ لینے کے بعد رہائشیوں میں ’’املاک کے معاہدے‘‘ کے عنوان سے فارم تقسیم کیے گئے۔ ذرائع کے مطابق، رہائشیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ یہ فارم مکمل کرکے ان پر دستخط کریں۔
رپورٹس کے مطابق، طالبان نے ہر رہائشی کمرے کا ماہانہ کرایہ 4 ہزار افغانی مقرر کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ رقم رواں سال یکم ثور سے شمار کی جائے گی۔ اس طرح مکان مالکان کو گزشتہ 6 ماہ کا کرایہ بھی ادا کرنا ہوگا۔ کرایہ ادا نہ کرنے کی صورت میں گھروں کو سربمہر کرکے رہائشیوں کو انہیں خالی کرنے کا پابند کیا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ طالبان نے کرایہ داروں سے بھی کہا ہے کہ وہ آئندہ اپنے گھروں کا کرایہ وزارت عدلیہ کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرائیں۔ اس دوران ذرائع ابلاغ کو موصول ہونے والے تقسیم کیے گئے فارم کی ایک کاپی ’’واپس کیے گئے کرایے کے املاک کے معاہدے کا فارم‘‘ کے عنوان سے طالبان کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف اراضی کی جانب سے جاری کی گئی ہے، جس میں کرایہ دار کی معلومات، جائیداد کا پتہ، قبضے کی نوعیت اور کرایے کی مقدار درج ہے۔
ایک رہائشی نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ چار کمروں پر مشتمل اپنے گھر کے لیے اسے ہر ماہ 16 ہزار افغانی کرایہ ادا کرنا ہوگا۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے خرچ پر گھر تعمیر کیے اور زمین بھی خریدی تھی، اس لیے طالبان کی جانب سے کرایہ مقرر کیے جانے کو وہ اپنی ملکیت کو مشکوک قرار دینے کے مترادف سمجھتے ہیں۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ طالبان نے ان مکان مالکان کو بھی خبردار کیا ہے جو افغانستان سے باہر رہتے ہیں کہ وہ اپنے گھروں کا سامان وہاں سے نہ نکالیں، بصورت دیگر ان کا سامان ضبط کر لیا جائے گا۔
یہ اقدام کابل کے شیعہ آبادی والے امید سبز ٹاؤن کی زمینوں کی ملکیت کے حوالے سے جاری تنازع کے بعد سامنے آیا ہے۔ رواں سال ثور میں طالبان کی جانب سے غصب شدہ زمینوں کے مقدمات کی سماعت کے لیے قائم خصوصی عدالت نے اس ٹاؤن کی 1500 جریب سے زائد زمین کو ’’امارتی اور سرکاری‘‘ قرار دیا تھا۔ اس کے بعد طالبان نے رہائشیوں کو گھر خالی کرنے کا حکم دیا اور وزارت عدلیہ نے اس فیصلے پر عمل درآمد شروع کیا۔
رواں سال اسد میں بھی طالبان کے وزیر عدلیہ نے ٹاؤن کے علاقوں کے نمائندوں اور مساجد کے ائمہ کو طلب کرکے گھروں کو خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے علاوہ اس ٹاؤن میں نجی طور پر زمین و مکانات کی خرید و فروخت اور کرایے پر دینے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
امید سبز کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں کی ملکیت کے دستاویزات معتبر ہیں اور انہوں نے زمینیں رقم ادا کرکے باقاعدہ قانونی لین دین کے ذریعے خریدی تھیں۔ انہوں نے جاری دباؤ اور اپنے گھروں سے محروم ہونے کے خدشے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کابل کے مغربی علاقے میں واقع امید سبز ٹاؤن میں زیادہ تر ہزارہ اور شیعہ برادری کے افراد آباد ہیں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران بھی طالبان کی جانب سے ٹاؤن کی زمینوں کو سرکاری قرار دینے کے فیصلے کے خلاف رہائشیوں کے احتجاج کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔
کابل کے شیعوں کا کہنا ہے کہ طالبان کی وزارت عدلیہ کی جانب سے ان کی زمینوں اور گھروں پر قبضہ کرنے کے لیے ڈالا جانے والا دباؤ کھلا ظلم ہے۔ انہوں نے معاملے کی تحقیقات اور داد رسی کے لیے نمائندے قندھار میں طالبان کے سربراہ کے پاس بھی بھیجے، تاہم انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔
آپ کا تبصرہ