اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایرانی مسلح افواج کے سربراہ اور مرکزی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل علی عبداللہی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ خود یا صیہونی حکومت کے اکسانے پر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو ایرانی مسلح افواج فوری طور پر پوری شدت اور طاقت کے ساتھ امریکی مفادات کو بلا کسی پابندی کے نشانہ بنائیں گی۔
لیفٹیننٹ جنرل علی عبداللہی نے اپنے بیان میں کہا کہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایات، امام زمانہ (عج) کی عنایات، اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کی عوامی حمایت، شہید امام خمینی اور شہید امام خامنہ ای کی میراث، موجودہ قیادت کی دانشمندانہ رہنمائی، حکومت کی مسلسل کوششوں اور مسلح افواج کی جدوجہد کے نتیجے میں امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف مسلط کی جانے والی جنگیں ناکامی سے دوچار ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض اطلاعات کے مطابق امریکہ اور صیہونی حکومت ایک بار پھر ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں جھوٹے دعووں اور اس تاثر کو بنیاد بنایا جا رہا ہے کہ ایران کمزور حالت میں ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا:
1۔ آزاد انسانوں پر یہ بات واضح ہے کہ کئی ہزار سالہ تہذیب رکھنے والی ایرانی قوم ہمیشہ آزادی پسند، ظلم مخالف اور انصاف کی حامی رہی ہے۔ اسلام کی برکت سے ایرانی عوام ولایت سے وابستگی، ظلم کے مقابلے میں استقامت، مظلوموں کی حمایت اور اللہ کی مدد اور ظالموں کے خلاف یقینی فتح پر یقین جیسی صفات سے بھی آراستہ ہوئے ہیں اور وہ کسی ظالم یا طاقت کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔
2۔ صیہونی حکومت نے اپنی 80 سالہ تاریخ غارت گری، قتل اور جارحیت پر قائم کی ہے۔ اس حکومت نے ایران کو کمزور سمجھنے کی غلط فہمی میں امریکہ کی حمایت کے ساتھ 12 روزہ جنگ اور رمضان کی جنگ شروع کی، لیکن چند ہی دنوں کے بعد ایرانی مسلح افواج کے مؤثر اور شدید حملوں کے نتیجے میں جنگ روکنے کی درخواست کی اور اس جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے لگی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دونوں جنگوں کے نتائج نے نہ صرف صیہونی حکومت اور مقبوضہ علاقوں میں آباد غیر قانونی افراد کے لیے سلامتی پیدا نہیں کی بلکہ اس حکومت کے حکمرانوں کی کمزوری، ناکامی اور بدعنوانی کو مزید نمایاں کیا اور عدم تحفظ میں بھی اضافہ ہوا۔
عبداللہی نے کہا کہ صیہونی حکومت نہ اب اور نہ ہی آئندہ کسی وقت ایک طاقتور ایران کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر اس نے دوبارہ جنگ شروع کرنے کی غلطی کی تو ایرانی عوام اور مجاہدین کا شدید ردعمل اس کے تمام منصوبوں کو ناکام بنا دے گا۔
3۔ انہوں نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کا منتظر نہیں ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کے عوام خود اس بات کے منتظر ہیں کہ وہ صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کے جھوٹ کا جواب دیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ انتخابات سے پہلے یا بعد میں، کسی بھی نتیجے کی صورت میں، اگر امریکہ یا صیہونی حکومت کے اکسانے پر ایران کے خلاف کارروائی کی گئی تو ایرانی مسلح افواج فوری طور پر پوری طاقت کے ساتھ امریکی مفادات کو بلا کسی پابندی کے نشانہ بنائیں گی۔
4۔ انہوں نے خطے میں امریکہ کی میزبانی کرنے والے ممالک کو بھی خبردار کیا کہ خطے میں عدم تحفظ اور اقتصادی مسائل کی بنیادی وجہ امریکی فوج کی موجودگی ہے اور جب تک یہ موجودگی جاری رہے گی، عدم تحفظ بھی برقرار رہے گا۔
انہوں نے کہا: ’’اگر ایران کے خلاف نئی جنگ شروع کی گئی تو اس کی آگ سب کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔‘‘
انہوں نے صیہونی حکومت کے سربراہ کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کے فوجی مرحلے میں داخل ہونے کے دعوے کو بھی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن ہونے کی تصدیق سب کی جانب سے کی جا چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ایسی حکومت کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں دعوے قابل قبول نہیں جس کے پاس خود سیکڑوں جوہری وار ہیڈز موجود ہیں اور جو بین الاقوامی قوانین کی پابندی نہیں کرتی۔
5۔ انہوں نے بین الاقوامی اداروں، بالخصوص عالمی جوہری توانائی ایجنسی کو خبردار کیا کہ وہ ایران کے جوہری مراکز کے بارے میں بے بنیاد بیانات دینے سے گریز کرے۔
6۔ لیفٹیننٹ جنرل علی عبداللہی نے آخر میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پہلے سے زیادہ طاقتور ہے اور ہر قسم اور ہر سطح کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے اللہ کی مدد پر اپنے یقین اور امید کا اظہار کیا۔
بیان کے آخر میں انہوں نے قرآن مجید کی آیت ’’اور فتح صرف اللہ کی طرف سے ہے جو غالب اور حکمت والا ہے‘‘ تلاوت کی۔
لیفٹیننٹ جنرل پاسدار پائلٹ علی عبداللہی
ایرانی مسلح افواج کے سربراہ اور مرکزی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء کے کمانڈر
آپ کا تبصرہ