اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے اپنے فیس بک صفحے پر جاری ایک پیغام میں لکھا کہ صاف پانی زندگیاں بچاتا ہے۔
یونیسف نے اپنے پیغام میں احمد نامی ایک بچے کی کہانی کا بھی ذکر کیا، جو ہر روز ایک غیر محفوظ جھیل سے پانی لانے کے لیے طویل فاصلہ طے کرتا ہے۔ اس جھیل سے پانی لانے کے باعث وہ آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہے۔
یونیسف نے زور دیا کہ افغانستان بھر میں بہت سے خاندانوں کے لیے صاف پینے کے پانی تک رسائی اب بھی مشکل ہے۔
یہ ادارہ جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ کے تعاون سے صاف پانی تک رسائی بہتر بنانے کے لیے مختلف پروگراموں پر عمل درآمد کر رہا ہے، تاکہ احمد جیسے بچے صحت مند پرورش پا سکیں، تعلیم حاصل کر سکیں اور ترقی کر سکیں۔
یونیسف اور اقوام متحدہ کی سابقہ رپورٹس کے مطابق، افغانستان کی تقریباً ایک تہائی آبادی کو اپنی ضرورت کے مطابق پینے کا پانی دستیاب نہیں ہے۔ صاف پانی کی کمی بچوں میں اسہال اور غذائی قلت کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ہے۔ مسلسل خشک سالی اور کمزور بنیادی ڈھانچے نے بھی اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ