اردن کے مختلف وکلا نے مصری حکام کی طرف سے غزہ اور مصر کے درمیان زیرزمین سرنگوں میں کام کرنےوالے مزدوروں پر مہلک گیس کے استعمال کی عدالتی تحقیقات کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔
غزہ کے زمینی راستے بند ہونے کے باعث شہریوں کے زیراستعمال ان سرنگوں کے ذریعے بنیادی ضرورت کی اشیا کو مصرسے غزہ منتقل کیا جاتا ہے جبکہ اس عمل کے دوران مصری حکام کی طرف سے سرنگوں میں مہلک گیس کے استعمال سے اب تک درجنوں افراد شہید ہو چکے ہیں۔
عمان میں مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کے مطابق بدھ کے روز اردن کے تیس نمائندہ وکلا کے ایک گروپ نے اردنی بارکونسل کے صدرکے سامنے ایک یادداشت پیش کی، جس میں صدر بارکونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غزہ اور مصرکی درمیانی سرحد پرسرنگوں میں مہلک گیس کے مصری اقدام اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھانے کے ساتھ ساتھ اس اقدام کی فوری انکوائری کرائیں۔
وکلا نے عمان کے صدربار کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وی مصری اٹارنی جنرل کے ہاں یہ معاملہ اٹھائیں اور اس کی تحقیقات کے لیے ٹھوس کارروائی کا آغاز کریں، کیونکہ مہلک گیس اورکیمیائی ہتھیاروں کا استعمال جنگی جرم ہے، جبکہ مصری حکام کی جانب سے اب تک سرنگوں میں فلسطینیوں پر مہلک گیس کے استعمال سے درجنوں افراد شہید ہو چکے ہیں۔
ادھر اردن میں ایک ممتاز وکیل راہنما علی ابوالسکر نے کہا ہے کہ وہ مصری مہلک گیس کے استعمال کے لیے تحقیقات نہ صرف اردنی قانون کے تحت کرانے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ اس معاملے کی مصری اورعالمی قانون کے تحت پیروی کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ حال ہی میں مصری حکام کے غزہ اور مصر کے درمیان سرنگ میں مہلک گیس چھوڑنے سے کم ازکم چار افراد شہید اور دیگرنو زخمی ہو گئے تھے۔
غزہ کے زمینی راستے بند ہونے کے باعث شہریوں کے زیراستعمال ان سرنگوں کے ذریعے بنیادی ضرورت کی اشیا کو مصرسے غزہ منتقل کیا جاتا ہے جبکہ اس عمل کے دوران مصری حکام کی طرف سے سرنگوں میں مہلک گیس کے استعمال سے اب تک درجنوں افراد شہید ہو چکے ہیں۔
عمان میں مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کے مطابق بدھ کے روز اردن کے تیس نمائندہ وکلا کے ایک گروپ نے اردنی بارکونسل کے صدرکے سامنے ایک یادداشت پیش کی، جس میں صدر بارکونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غزہ اور مصرکی درمیانی سرحد پرسرنگوں میں مہلک گیس کے مصری اقدام اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھانے کے ساتھ ساتھ اس اقدام کی فوری انکوائری کرائیں۔
وکلا نے عمان کے صدربار کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وی مصری اٹارنی جنرل کے ہاں یہ معاملہ اٹھائیں اور اس کی تحقیقات کے لیے ٹھوس کارروائی کا آغاز کریں، کیونکہ مہلک گیس اورکیمیائی ہتھیاروں کا استعمال جنگی جرم ہے، جبکہ مصری حکام کی جانب سے اب تک سرنگوں میں فلسطینیوں پر مہلک گیس کے استعمال سے درجنوں افراد شہید ہو چکے ہیں۔
ادھر اردن میں ایک ممتاز وکیل راہنما علی ابوالسکر نے کہا ہے کہ وہ مصری مہلک گیس کے استعمال کے لیے تحقیقات نہ صرف اردنی قانون کے تحت کرانے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ اس معاملے کی مصری اورعالمی قانون کے تحت پیروی کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ حال ہی میں مصری حکام کے غزہ اور مصر کے درمیان سرنگ میں مہلک گیس چھوڑنے سے کم ازکم چار افراد شہید اور دیگرنو زخمی ہو گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/152