2 اکتوبر 2026 - 17:00
شام میں گیس پائپ لائن دھماکے اور فرقہ وارانہ قتل میں اضافہ؛ آبنائے ہرمز کے متبادل راستے پر بھی سوالات

دمشق کے نواح میں گیس پائپ لائن میں دھماکے کے باعث دیر علی، الناصریہ اور تشرین بجلی گھروں نے کام کرنا بند کر دیا، جبکہ شام میں جاری فرقہ وارانہ قتل کے واقعات نے ملک کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو مزید سنگین کر دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں گیس پائپ لائن میں دھماکے کے نتیجے میں ملک کے تین بجلی گھروں نے کام کرنا بند کر دیا، جس کے باعث بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوا اور پہلے ہی بحران کا شکار شام کی صورتحال مزید الجھ گئی۔

لبنان کے اخبار الاخبار کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب شام میں سلامتی، اقتصادی اور سماجی صورتحال بدستور انتہائی نازک ہے۔ اس صورتحال کا ایک اور پہلو فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل کے واقعات کا جاری رہنا ہے۔ ان واقعات کی تازہ ترین مثال علوی برادری سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کو لے جانے والی ایک بس پر حملہ ہے۔

شام کی بجلی کمپنی نے اعلان کیا کہ دو روز قبل دمشق کے نواحی علاقے مشرقی غوطہ میں تشرین تھرمل پاور اسٹیشن کی گیس پائپ لائن کو نشانہ بنانے والے دھماکے کے باعث دیر علی، الناصریہ اور تشرین بجلی گھروں نے مکمل طور پر کام کرنا بند کر دیا۔ تاہم دھماکے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب مقامی ذرائع ابلاغ، جن میں اخبار عنب بلدی بھی شامل ہے، نے بتایا کہ یہ دھماکہ علاقے کی فضا میں ایک نامعلوم جنگی طیارے کی آواز سنائی دینے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد ہوا۔ اس صورتحال نے واقعے کی وجوہات کے حوالے سے مختلف امکانات کو جنم دیا ہے۔

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس واقعے سے صرف دو روز قبل الشولا اور دیر الزور کے درمیان ایک گیس پائپ لائن کو بھی اسی طرح کے دھماکے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ جولانی حکومت کے حکام نے اعلان کیا تھا کہ وہ دھماکہ تخریبی کارروائی کا نتیجہ تھا۔

حالیہ واقعے سے ہونے والے براہ راست اور بالواسطہ نقصانات کے بارے میں ابھی تک درست اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے، تاہم شامی شہریوں نے بجلی کی بندش کے دورانیے میں اضافے کے ذریعے اس کے اثرات براہ راست محسوس کیے ہیں۔ یہ صورتحال ایسے ملک میں پیدا ہوئی ہے جو پہلے ہی توانائی کی کمی کا شکار ہے اور جہاں شہری بجلی کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا سامنا کر رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز کے متبادل راستے کے طور پر شام کے منصوبے کو سلامتی کے خدشات کا سامنا

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب شام کی جغرافیائی حیثیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے تیل کی برآمد کے لیے زمینی راستے میں تبدیل کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنا ہے اور شام و عراق کے لیے امریکی نمائندے تھامس بارک کے خیالات کے مطابق اسی مقصد کے تحت یہ منصوبہ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

حالیہ دھماکہ شام کی تیل کمپنی کی جانب سے عرب گیس پائپ لائن منصوبے کے دوسرے مرحلے کے دوسرے حصے پر عملی کام شروع کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی ہوا۔ اس حصے کی لمبائی 186 کلومیٹر اور قطر 36 انچ ہے۔ اس کا مقصد اس پائپ لائن نیٹ ورک کو مکمل کرنا ہے جو اردن کی سرحد سے ترکی کی سرحد تک پھیلا ہوا ہے اور جس کی مجموعی لمبائی تقریباً 566 کلومیٹر ہے۔

کمپنی نے وضاحت کی کہ اس مرحلے کی تکمیل سے پائپ لائن کے اندر عملی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھ کر تقریباً 80 لاکھ مکعب میٹر ہو جائے گی۔ اس مرحلے میں گیس کا دباؤ بڑھانے کے لیے ایک اسٹیشن بھی قائم کیا جائے گا جس میں تین کمپریسر نصب ہوں گے۔ اس کی ترسیلی صلاحیت ایک کروڑ 10 لاکھ مکعب میٹر یومیہ ہوگی، جبکہ مستقبل میں اسے بڑھا کر تقریباً دو کروڑ 20 لاکھ مکعب میٹر یومیہ کرنے کی گنجائش بھی موجود ہوگی۔

اس طرح کی رکاوٹوں کے بار بار سامنے آنے سے ان زمینی پائپ لائنوں پر عملی انحصار کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں جو شام کی سرزمین سے گزرتی ہیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں ہے جب شام کی سلامتی کی صورتحال بدستور انتہائی نازک ہے اور اس کے پیچھے متعدد عوامل کارفرما ہیں۔

ان عوامل میں سرفہرست دہشت گرد تنظیم داعش سے وابستہ عناصر ہیں جو شام کے صحرائی علاقے میں سرگرم ہیں اور ان علاقوں میں بھی موجود ہیں جہاں سے گیس پائپ لائنیں گزرتی ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر بیرونی فریق بھی اس معاملے میں کردار ادا کر رہے ہیں، جن میں سب سے اہم صیہونی ریاست ہے، جو مختلف طریقوں سے شام کو کمزور رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha