30 ستمبر 2026 - 17:11
عراق میں ایرانی طیاروں کی لینڈنگ پر پابندی؛ امریکہ کی دھونس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے مترادف ہے

حرکت النجباء کی سیاسی کونسل کے سربراہ شیخ علی الاسدی نے عراقی حکام کی جانب سے ایرانی طیاروں کو عراق کے ہوائی اڈوں پر اترنے سے روکنے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’’امریکی دھونس کے سامنے سر تسلیم خم کرنا‘‘ قرار دیا اور اس فیصلے پر فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، حرکت النجباء کی سیاسی کونسل کے سربراہ شیخ علی الاسدی نے المیادین ٹی وی کے پروگرام ’’عراقنا الیوم‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عراقی حکام کی جانب سے ایرانی طیاروں کو عراق کے ہوائی اڈوں پر اترنے سے روکنے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا اور اس اقدام کو ’’امریکی دھونس کے سامنے سر تسلیم خم کرنا‘‘ قرار دیا۔

شیخ الاسدی نے زور دے کر کہا کہ یہ مسئلہ صرف ہوائی اڈوں تک محدود نہیں بلکہ ایران کے ساتھ قریبی اور مضبوط تعلقات سے متعلق ہے، اور ایسے معاملے میں امریکہ کے غیر ذمہ دارانہ فیصلے کے سامنے سر تسلیم کرنا درست نہیں۔

انہوں نے عراقی فیصلہ سازوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس اقدام پر نظرثانی کی ضرورت کو تسلیم کریں اور کہا: ’’ورنہ اس فیصلے کو تبدیل کرنے کے لیے عوامی دباؤ کی ایک تحریک وجود میں آئے گی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’عوامی آپشنز سب سے زیادہ دباؤ ڈالیں گے اور تمام امکانات موجود ہیں۔‘‘

شیخ الاسدی نے کہا کہ اندرونی سیاسی قوت کی کمزوری نے امریکی قابض قوت کو عراق پر اپنے فیصلے مسلط کرنے پر مجبور کیا ہے، حالانکہ فیصلہ ساز ان فیصلوں پر عمل درآمد سے انکار کرسکتے ہیں، جیسا کہ بعض ممالک ایسا کرتے ہیں، اور اپنے خودمختار، سیاسی اور اقتصادی فیصلوں کی آزادی برقرار رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عراقی سیاسی طبقہ ذاتی اور جماعتی مفادات اور دوہرے رویے کے باعث امریکہ پر انحصار کا شکار ہے؛ یہی طبقہ ایک طرف امریکی فیصلوں کو قبول کرتا ہے اور دوسری طرف ان کی مذمت بھی کرتا ہے۔

حرکت النجباء کی سیاسی کونسل کے سربراہ نے کہا: ’’خودمختاری کا مطلب مکمل آزادی ہے؛ یعنی عراق معیشت، سلامتی اور زندگی کے تمام شعبوں میں اپنے فیصلے خود کرے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’عراق آزاد ہونا چاہیے اور امریکی نمائندے کو اس کے اقتصادی، سکیورٹی اور سیاسی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ مزاحمت نے ابتدا ہی سے واضح مؤقف اختیار کیا ہے، لیکن عراقی سیاست دان ابہام اور مشکلات کا شکار ہیں۔

الاسدی نے اندرونی سیاسی معاملات اور مزاحمت کے ہتھیاروں کے معاملے میں ’’کوآرڈی نیشن فریم ورک‘‘ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے ادوار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات میں ’’ہتھیاروں کی اجارہ داری‘‘ کی اصطلاح کو مسترد کردیا گیا اور طے پایا کہ اس نقصان دہ اصطلاح کو ’’ہتھیاروں کی تنظیم‘‘ سے تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے کوآرڈی نیشن فریم ورک کی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر تعریف کی۔

انہوں نے کہا: ’’عراق کا بڑا مسئلہ بدعنوانی ہے، ہتھیار نہیں۔‘‘

حرکت النجباء کی سیاسی کونسل کے سربراہ نے مزید کہا کہ ہم بدعنوانی کے خلاف جنگ کی حمایت کرتے ہیں اور اس کے تسلسل اور واضح طور پر بدعنوان عناصر کے خلاف قانون کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں۔

الاسدی نے ایک بار پھر زور دیا کہ حرکت النجباء کا سیاسی عمل میں داخل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

انہوں نے وضاحت کی: ’’ہم النجباء میں ذاتی مطالبات نہیں رکھتے بلکہ چاہتے ہیں کہ عراق اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار رکھتا ہو۔‘‘

عراق کے وزیر اعظم علی الزیدی کے ساتھ تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا: ’’وزیر اعظم کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے ہیں اور ہم نے ہتھیاروں کے معاملے پر ان کے ساتھ کئی بار ملاقات کی ہے، لیکن ہمارا خیال ہے کہ مسئلہ ان کے مشیروں میں ہے۔ وزیر اعظم کو امریکیوں کے ساتھ مذاکرات میں مزاحمت کے کارڈ کو مضبوطی سے استعمال کرنا چاہیے۔‘‘

الاسدی نے ہتھیار حوالے کرنے کی شرائط کو امریکی قبضے اور ملک میں کسی بھی غیر ملکی موجودگی، بشمول ترکی کی موجودگی، کے خاتمے سے مشروط قرار دیتے ہوئے وضاحت کی: ’’مزاحمت کے پاس اپنے جائز اسباب موجود ہیں اور جب بھی یہ اسباب ختم ہوجائیں گے، مزاحمت بھی ختم ہوجائے گی۔‘‘

حرکت النجباء کی سیاسی کونسل کے سربراہ نے امریکی سرگرمیوں کے بارے میں انکشاف کرتے ہوئے کہا: ’’حرکت النجباء کے پاس تمام امریکی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات ہیں، جن میں ایک ایسا گروہ بھی شامل ہے جو ان کی براہ راست نگرانی میں عراقیوں پر مشتمل کیا گیا ہے۔ ہمیں اس گروہ کے مقام اور اس کی آئندہ ذمہ داریوں کا علم ہے، جن میں قتل اور فتنہ انگیزی شامل ہے۔ یہ گروہ ایک مختلف نام سے ’بلیک واٹر‘ کی نئی شکل ہے۔‘‘

انہوں نے خبردار کیا کہ مزاحمت کے ہتھیاروں کے بہانے اندرونی تصادم پیدا کرنے کی کئی کوششوں کو ناکام بنایا گیا، جن کی قیادت امریکہ کی حمایت یافتہ سکیورٹی ادارے کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں داعش کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششوں کے آثار موجود ہیں۔

الاسدی نے امریکیوں پر ’’ایک انگلی کے پور کے برابر بھی‘‘ اعتماد نہ ہونے اور ان کی جانب سے اپنے وعدوں کا احترام نہ کرنے پر زور دیتے ہوئے مذاکرات کے دوران ایران پر امریکی حملے کا حوالہ دیا اور کہا: ’’ایران کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ امریکیوں کی جانب سے اپنے وعدوں کا احترام نہ کرنے کی سب سے بڑی دلیل ہے؛ انہوں نے مذاکرات کے دوران حملہ کیا اور یہ پستی کی علامت ہے۔‘‘

علاقائی خطرات کے بارے میں انہوں نے کہا: ’’اگر ایران پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت ہوئی تو ہم مناسب وقت پر اپنا مؤقف اختیار کریں گے۔‘‘

الاسدی نے انکشاف کیا کہ امریکی ناظم الامور نے ایک سیاست دان کے ذریعے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی، جبکہ واشنگٹن کے اتحادیوں کے دیگر نمائندوں نے بھی مذاکرات کی درخواست کے لیے پیغامات بھیجے اور ایسے منصوبے اور تجاویز پیش کیں جن میں ’’اسرائیل‘‘ تک پہنچنے والے اسٹریٹجک ہتھیار کو چھوڑنے کی شرط رکھی گئی تھی، تاہم ان تجاویز کو مکمل طور پر مسترد کردیا گیا۔

انہوں نے آخر میں خبردار کیا: ’’امریکہ کا اصل منصوبہ حشد الشعبی کی قیادت کو تبدیل کرکے اسے ایک بے اثر ادارے میں تبدیل کرنا ہے، تاہم مرجعیت اور بعض سیاست دانوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ امریکی دباؤ ایک مقام پر نہیں رکے گا بلکہ ہتھیار حوالے کرانے کے بعد حشد الشعبی اور پھر وزارت دفاع اور فوجی ادارے تک پہنچے گا۔‘‘

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha