28 ستمبر 2026 - 16:14
رہبر معظم انقلاب: الٰہی حساب کے مطابق ایران دنیا کی پہلی طاقت ہے، اسلامی انقلاب نے ایران پر غیر ملکی تسلط کا خاتمہ کردیا

رہبر معظم انقلاب اسلامی اور ایرانی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف حضرت آیت اللہ سیدمجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے مسلط کردہ پہلی جنگ کے ابتدائی ایام اور ایرانی قوم کی آٹھ سالہ تاریخی دفاعی جدوجہد کی سالگرہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ایران کو پسماندگی، ذلت و خواری، وابستگی اور بدنامی کے دور میں واپس لے جانے کے لیے تسلط پسند قوتوں نے انقلاب کے پہلے عشرے میں جنگ مسلط کی، تاہم ان کی بھرپور کوششوں کے باوجود اسلامی نظام پہلے سے زیادہ مضبوط اور توانا ہو کر ابھرا اور آج دشمنوں کے دباؤ، خصوصاً حالیہ دو مسلط کردہ جنگوں کے نتیجے میں وہ ققنوس کی مانند اس قدر وسیع و طاقتور ہوچکا ہے کہ اس کے پرواز کا سایہ دشمن کی سرزمینوں تک پہنچ چکا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مسلط کردہ پہلی جنگ کے ابتدائی ایام اور ایرانی قوم کی آٹھ سالہ تاریخی دفاعی جدوجہد کی سالگرہ کے موقع پر ایک پیغام جاری کیا ہے۔

حضرت آیت اللہ سیدمجتبیٰ حسینی خامنہ ای کا یہ پیغام چند منٹ قبل جاری کیا گیا، جس کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

وَ لَقَدْ اَرسَلنْا موسیٰ بِایاتِنا اَنْ اَخرِجْ قَومَکَ مِنَ الظُّلُماتِ اِلیَ النّورِ وَ ذَکِّرْهُم بِاَیّامِ الله

مہر کے مہینے کے ابتدائی ایام، ایام اللہ اور ایران کی بہادر قوم کی مسلط کردہ پہلی جنگ میں آٹھ سالہ عظیم اور یادگار دفاع کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ ان دنوں ایران کی سرزمین پر انقلاب کا گرم سورج قومی اتحاد اور انقلابی اسلام کے مکتب و نظریے سے وفاداری کا خوشگوار احساس پھیلا رہا تھا، جس کے نتیجے میں قدیم و جدید استعمار اور تسلط کے برف پگھل رہے تھے۔

ان دنوں ایران کے بعض لوگوں کو اس سے بیس سے زائد سال قبل کے واقعات، استعمار کی دشمنی، صنعتِ تیل کو قومیانے کے واقعات اور امریکی بغاوت کی یادیں تازہ تھیں۔ بعض لوگوں نے ان واقعات کی خبریں سنی تھیں، جبکہ بہت سے لوگوں نے خود اس حقیقت کو بخوبی محسوس کیا تھا کہ غیر ملکی تسلط نے ہمارے ملک کے معاملات کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔

لیکن اس سے پہلے کے دن تاریک اور اندوہناک تھے۔ استکباری حکومتوں کے سفیر ایران کے بادشاہ کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا، اس بارے میں احکامات دیتے تھے اور وہ بھی خواہ رغبت سے یا بے دلی سے انہی احکامات پر عمل کرتا تھا، یہاں تک کہ حضرت امام خمینی (رح) کی قیادت میں ایرانی قوم کے عظیم انقلاب نے اس پورے نظام کا خاتمہ کردیا۔

اس انقلاب کے نتیجے میں وہ تاریک دن اسلامی جمہوریہ ایران کے قیام کے روشن دنوں میں تبدیل ہوگئے۔ یہ صورت حال ان تسلط پسند قوتوں کے لیے انتہائی گراں تھی جن کی نظریں اس سرزمین کی دولت پر لگی ہوئی تھیں اور جو برسوں سے اسے اپنے قبضے میں لینے کے لیے وہاں کے لوگوں کے ساتھ طرح طرح کی زیادتیاں کرتی رہی تھیں۔

چنانچہ اس کے بعد انہوں نے اپنی تمام تر کوششیں انقلابی قوم کے بہتے ہوئے دریا کا رخ دوبارہ سابقہ سمت میں موڑنے کے لیے صرف کردیں اور مسلط کردہ پہلی جنگ اسلامی جمہوریہ کی بابرکت زندگی کے پہلے عشرے میں ان کی سب سے اہم کارروائی تھی۔

اس جنگ کی آگ سے، جسے عوام دشمن بعث پارٹی نے چند روزہ جنگ اور آسان فتح کے گمان میں بھڑکایا تھا، اسلامی نظام پہلے سے زیادہ مضبوط اور توانا ہو کر ققنوس کی مانند ابھرا، ایسی آواز کے ساتھ جو پہلے سے زیادہ بلند تھی اور ایسی پرواز کے ساتھ جو پہلے سے زیادہ بلند و وسیع تھی؛ اور دشمن کی جانب سے پیدا کیے گئے بعد کے واقعات میں بھی یہی اس نظام کی مستقل خصوصیت رہی۔

وہ دن جب دشمن نے اس قوم پر اپنے کٹھ پتلیوں کو مسلط کررکھا تھا اور استعمار کی ایک نئی شکل نافذ کی جارہی تھی، انقلاب اور مسلط کردہ جنگ کے دوران اسلام اور جہاد کا پرچم بلند کرنے کی برکت سے ایسے باعزت دنوں میں تبدیل ہوگئے کہ آج بھی، اس جنگ کے اختتام کو ۳۸ سال گزرنے کے بعد، اس کے ایک ایک واقعے اور اس کے بچ جانے والے افراد کی سچی روایات کو دیکھنے سے ایسے نمونے سامنے آتے ہیں جو عبادت، شجاعت، مزاحمت، اخلاق اور انسانیت کا درس دیتے ہیں اور ہمارے ملک کی تاریخ کے افق پر روشن ستاروں کی مانند جگمگاتے ہیں۔

وہ دن جب دشمن کے نظامِ تسلط کے کارندوں نے ہمارے ملک کو مسلط کردہ جنگ کے آغاز میں مختلف خطرات کے مقابلے میں اپنے دفاع کے لیے ایسی خالی ہاتھ حالت میں چھوڑ دیا تھا جو اسے طاغوتی نظام سے ورثے میں ملی تھی، حق کے قیام اور الٰہی امداد کی برکت سے آج ایسے دنوں میں تبدیل ہوگئے ہیں کہ خود تسلط پسند جارح قوتیں، نہ کہ ان کے پیروکار، اسلامی مجاہدین کے حملوں کے مقابلے میں پناہ گاہ تلاش کرتی ہیں اور جنگ ختم کرنے کے لیے ہاتھ جوڑتی ہیں۔

وہ دن جن کی طرف وہ ہمارے ملک کو واپس لے جانا چاہتے ہیں، پسماندگی، ذلت و خواری، وابستگی اور عالم اسلام میں ایران کی بدنامی سے بھرے ہوئے تھے؛ جبکہ آج کے ہمارے دن ترقی، عزت، آزادی اور عالم اسلام بلکہ پوری دنیا میں انتہائی بلند وقار سے بھرے ہوئے ہیں۔

آج بعض لوگ ہمیں دنیا کی چوتھی بڑی طاقت سمجھتے ہیں۔ البتہ وہ دنیاوی حساب کتاب کی بنیاد پر ایسا کہتے ہیں، لیکن الٰہی حساب کے مطابق وہ ملک جو خود کو عترت طاہرہ صلوات اللہ و سلامہ علیہم اجمعین سے وابستہ سمجھتا ہے، جس کے اکثر لوگ ان عظیم ہستیوں سے محبت رکھتے ہیں اور حق کے قیام کے لیے کسی خوف میں مبتلا نہیں ہوتے، دنیا کی پہلی طاقت ہے۔

وہ دن جب ایران کے جنوب میں واقع دونوں سمندر دشمن کی افواج کے لیے جولان گاہ تھے، اب ایسے دنوں میں بدل چکے ہیں کہ وہ بہادر مجاہدین اور آبنائے ہرمز کے محافظوں سے پہنچنے والے دردناک ضربوں کے باعث بحیرہ عرب سے آگے نہیں بڑھتے، اور جب بھی انہوں نے یہ خطرہ مول لیا، انہیں خود نقصان اٹھانا پڑا؛ اور وہ دن دور نہیں جب بحیرہ عرب بھی خود کو ان سے خالی کردے گا۔

وہ دن بھی تھے جب تسلط پسند قوتوں نے نفسیاتی کارروائیوں اور خوف و ہراس کی فضا پیدا کرکے دارالحکومت کی سڑکیں ویران کردیں اور اس قوم کی آزادی پسندی کے خلاف بغاوت برپا کی، جس کے بعد ۲۵ سال تک اس ملک کی دولت لوٹتے رہے۔

لیکن آج کے دنوں میں ہمارے ہم وطن سات ماہ سے پورے ملک کے میدانوں اور سڑکوں کو اپنی ذمہ دارانہ اور پُرجوش موجودگی سے زینت بخش رہے ہیں تاکہ اسلامی مجاہدین کے حوصلے بلند رہیں اور دشمن خوف میں مبتلا ہو۔

اسی طرح ۳۰ ملین سے زائد ایرانیوں نے اپنی جان نثاری کا اعلان کیا اور جب ان کی دوبارہ موجودگی کے اعلان کے مطابق کسی قسم کی تنظیم سازی کے لیے ان کی شرکت درکار ہوئی تو صرف پہلے ۱۰۰ منٹ کے دوران پانچ لاکھ سے زائد افراد نے مطلوبہ گنجائش مکمل کردی۔

اس وقت پورے اسلامی ایران میں، جو مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے ایرانیوں کی موجودگی سے مزین ہے، مختلف نوعیت کی آمادگیوں، خصوصاً مسلح آمادگیوں کا اظہار موجود ہے تاکہ ایسا میدان تیار کیا جائے جہاں ان کے لیے نام اور ان کے دشمن کے لیے ننگ و عار مقدر ہو۔

وہ دن تھے جب اس سرزمین کے لوگوں کی بہادری کا اظہار اس کے مردوں سے ہوتا تھا، لیکن آج ہم ایسے دنوں میں ہیں کہ خواتین بعض بہادری کے میدانوں میں مردوں سے بھی آگے نکل رہی ہیں۔

وہ دن تھے جب دشمن نے کوشش کی تھی کہ نظام کی سماجی بنیاد کو مسلسل کمزور کیا جائے، لیکن آج مختلف اور واضح طور پر مختلف طبقاتِ معاشرہ اپنے جائز مؤقف اور خصوصاً بابرکت آبنائے ہرمز کے تحفظ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

ماضی اور حال کے ان دنوں کا یہ تقابل مزید بھی وسیع اور واضح کیا جاسکتا ہے، لیکن ایک جملے میں، میں ایران کے عزیز عوام کے خادم کی حیثیت سے اعلان کرتا ہوں کہ وہ سابقہ دن جن کی واپسی کا ہمارا دشمن خواب دیکھتا ہے، گزر چکے ہیں اور اب کبھی واپس نہیں آئیں گے۔

البتہ مجھے درد اور افسوس کے ساتھ یاد دلانا ہوگا کہ ان دنوں امام خمینی کبیر اور عظیم الشان شہید خامنہ ای، اعلیٰ اللہ مقامہما الشریف، کی بہت کمی محسوس ہوتی ہے، جن کی قیادت کی مرہونِ منت آج ملک کو حاصل عزت ہے۔

لیکن ان دونوں بزرگوں کی اپنے پیروکاروں کے لیے چھوڑی ہوئی قیمتی میراث اور ان کے درخشاں و رہنمائی کرنے والے اقوال و اقدامات کی برکت سے آنے والے دن موجودہ دنوں سے کہیں زیادہ شاندار ہوں گے۔

کیونکہ وہ ققنوس جو مسلط کردہ پہلی جنگ کی آگ سے ابھرا تھا، اب دشمن کے دباؤ اور خصوصاً حالیہ دو مسلط کردہ جنگوں کے نتیجے میں اس قدر بڑا ہوچکا ہے کہ اس کی پرواز کا سایہ دشمن کی سرزمینوں تک پہنچ چکا ہے۔

اس موقع پر عرب دنیا کے عظیم مجاہد، جبهۂ مزاحمت کی عظیم علامت اور قابل قدر شہید، جناب سید حسن نصر اللہ، قدس اللہ نفسہ الزکیہ، کی دوسری برسی کے موقع پر ان کی یاد تازہ کرنا نہایت مناسب ہے۔

وہ اپنی قوم اور اپنے مکتب کے سچے خیرخواہ تھے۔ ان کے سچے اور شیریں خطبات اور ان کے بہادرانہ اقدامات ان کی قوم بلکہ دنیا کے تمام آزاد لوگوں کے دلوں کو مضبوط کرتے تھے۔

وہ شخصیت جنہوں نے لبنان جیسے چھوٹے ملک کا نام، جو برسوں سے بعض طاقتوں کا حیاط خلوت بنا ہوا تھا، عظمت کی بلندیوں تک پہنچایا۔

وہ شخصیت جن کے مستقل ساتھی نصرت اور فتح تھے اور جن کے بارے میں بلاشبہ کہا جاسکتا ہے کہ شام کی پوری تاریخ میں انبیاء اور ان کے اوصیاء کے بعد آج تک اس قدیم خطے میں ان جیسا عظیم شخص سر نہیں اٹھا سکا۔

اور آج ان کا قابل فخر پرچم جناب شیخ نعیم قاسم، حفظہ اللہ، کے ہاتھوں میں ہے، جو بہادری کے ساتھ حزب اللہ کی مضبوط اور عاشورائی صفوں کے اگلے محاذ پر ان کے راستے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

لبنان کے یہ موجودہ دن تاریخ کے سامنے اور بلکہ ابھی سے ان کے لیے اور مزاحمت کے تمام مجاہدین کے لیے نمایاں اور باعث فخر دن ہیں، جبکہ ان لوگوں کے لیے ذلت اور بالآخر رسوائی کا باعث بننے والے دن ہیں جنہوں نے صہیونی دشمن کے مقابلے میں تسلط پسند قوتوں اور اپنے بدخواہوں کے جھوٹے وعدوں پر امیدیں وابستہ کررکھی ہیں۔

وہ لوگ جو شہید سیدِ مزاحمت، سید ہاشم صفی الدین اور موجودہ مزاحمتی مجاہدین کے برخلاف، جن کی جدوجہد وقت گزرنے کے ساتھ روشن ستاروں کی طرح چمکتی رہے گی اور حیرت و پریشانی میں بھٹکنے والوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنے گی، بہت جلد تاریخ کے صفحات کے پہلے ہی ورق میں دفن اور فراموش ہوجائیں گے۔

اور جب مستقبل میں کبھی ان کا ذکر کیا جائے گا تو وہ برائی، بے تدبیری اور حتیٰ کہ شاید خیانت کی یاد دلانے کا باعث ہوگا۔

آخر میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے مسلسل فضل و کرم اور ہمارے آقا حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف و ارواحنا فداه کی خصوصی دعا کی برکت سے ایرانی قوم اور مزاحمت کے تمام ساتھیوں کو نصرت، فتح اور عزت کے سوا کچھ نہ ملے، جبکہ ان کے دشمنوں کو شکست اور خواری کے سوا کچھ نصیب نہ ہو؛ بمنہ و کرمہ۔

سیدمجتبیٰ حسینی خامنہ ای

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha