17 جولائی 2010 - 19:30

شمالی وزیرستان میں اغوا ہونے والے کرنل امام اور برطانوی صحافی اسد قریشی کو حقانی گروپ کے حوالے کردیا گیا ہے.

 واضح رہے ان کے تیسرے ساتھی خالد خواجہ کو30اپریل کو قتل کردیا گیا تھا اور لاش میر علی کے نواح میں پھینک دی گئی تھی۔ ان کے قتل کی ذمہ داری ایشین ٹائیگر نامی تنظیم نے قبول کی تھی۔ کرنل امام ، خالد خواجہ اور صحافی اسد قریشی کو 26مارچ کو شمالی وزیرستان میں اغوا کرلیا گیا تھا، ذرائع کے مطابق ان دونوں مغویوں کو میرانشاہ میں جرگے کے دوران حقانی گروپ کے حوالے کیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق دونوں مغویوں کوجرگے کے بعد رہا کر دیا جائے گا. ....

چند سوالات:مقتول خواجہ کے خاندان اور جنرل (ر) حمید گل اور جنرل (ر) اسلم بیگ نے کہا تھا کہ اغوا کار "طالبان نہیں ہوسکتے". سوال یہ ہے کہ 1- اگر وہ طالبان نہیں ہیں تو وزیرستان میں کیا کررہے ہیں؟ 2- اگر وہ طالبان نہیں ہیں تو جلال الدین حقانی سے ان کا تعلق کیوں ہے؟3- جنرل صاحبان کے بقول ان کے طالبان کے اندر اپنے ذرائع ہیں اور یہ کہ خواجہ صاحب طالبان سے مذاکرات کرنے اور خودکش دھماکے بند کرانے گئے تھے اور انھوں نے جنرل اسلم بیگ اور کوہاٹ ڈویژن میں دہشت گردی کے سرپرست ابراہیم پراچہ سے رابطہ کیا ہوا تھا اور اس کے بعد ہی طالبان کے پاس گئے تھے... سوال یہ ہے کہ ان حضرات کے طالبان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہے اور یہ طالبان واقعی کون ہیں جنکے جنرل صاحبان سے تعلقات بھی ہیں اور پاکستان پر حملے بھی کررہے ہیں؟ اس بات کی وضاحت کہاں سے مل سکتی ہے؟ 4- خالد خواجہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ابراہیم پراچہ کے مہمان تھے اور چھپکے سے ان کے گھر سے نکلے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ پراچہ کا موقف ہوگا کیونکہ کرنل امام ابھی تک دہشت گردوں کے ہاتھوں قید ہیں، خالد خواجہ دنیا سے ہی رخصت ہوگئے ہیں چنانچہ کیا امید کی جاسکتی ہے اور کیا ایسا کوئی مرجع ہے جو پراچه کے گھر سے خواجہ اور امام کو وزیرستان روانہ کرنے اور اغوا کاروں سے پراچہ صاحب کے تعلقات کے بارے میں تفتیش کرے؟ کیونکہ نام نہاد ایشئن ٹائگرز نے پراچہ سے ثالثی کے لئے کہا تھا۔ اور یہ بھی پراچہ نے خود بتایا ہے۔

........

/110

بشکریہ از روزنامہ جنگ