اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جنوبی کوریا کے شہر تگو میں مسجد کی تعمیر کا کئی سال سے جاری تنازع مقامی حکام کی جانب سے مسلمان برادری کو نئی زمین فراہم کرنے کی تجویز کے بعد نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ کورین ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ مسجد ابتدائی طور پر کیونگ پُک نیشنل یونیورسٹی کے قریب مسلمان طلبہ کے لیے تعمیر کی جانی تھی، تاہم مختص زمین پر اختلاف کے باعث تعمیراتی منصوبہ طویل عرصے تک قانونی اور عدالتی مشکلات کا شکار رہا۔
تگو شہر کے حکام نے پیر کے روز مسجد کی تعمیر کے لیے مسلمان برادری کو کسی دوسرے مقام پر زمین فراہم کرنے کی تجویز پیش کی، جسے مسلمانوں نے قبول کر لیا۔ اسلامی مرکز ’’کیونگ پُک دارالایمان‘‘ نے اعلان کیا کہ کیونگ پُک نیشنل یونیورسٹی کی مسلمان برادری نے میئر کی تجویز کا جائزہ لینے اور گزشتہ برسوں کے دوران پیش آنے والی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ’’بُک‘‘ کے علاقے میں نئی زمین کو متبادل مقام کے طور پر قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نئی تجویز کردہ زمین اس سے قبل پولیس اسٹیشن کے طور پر استعمال ہوتی تھی اور اس کا رقبہ موجودہ مسجد کے لیے مختص زمین کے تقریباً نصف ہے۔ تاہم مسلمان برادری نے واضح کیا ہے کہ اس مقام کو قبول کرنے کی شرط یہ ہے کہ سابقہ منصوبے پر ہونے والے اخراجات کی تلافی کی جائے۔ رپورٹ کے مطابق مسلمان برادری مسجد کی تعمیر کے منصوبے پر اب تک تقریباً 350 ملین وون، یعنی تقریباً 253 ہزار ڈالر خرچ کر چکی ہے اور وہ یہ رقم بلدیہ سے واپس لینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
مقامی حکام نے ابھی تک اس شرط کو قبول یا مسترد نہیں کیا اور کہا ہے کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے۔ ’’بُک‘‘ کے علاقے کے حکام نے بھی کہا ہے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گے اور منتقلی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے جنوبی کوریا کی مرکزی حکومت سے مالی معاونت حاصل کرنے کے امکان کا جائزہ لیں گے۔
تگو میں مسجد کی تعمیر پر اختلاف کئی سال سے جاری ہے اور یہ معاملہ عدالتی کارروائی تک بھی پہنچ چکا تھا۔ یہ مسجد مسلمان برادری، خصوصاً کیونگ پُک نیشنل یونیورسٹی کے مسلمان طلبہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تعمیر کی جانی تھی۔ متبادل مقام کا جائزہ لینے پر اتفاق کے بعد اب مسلمان برادری اور مقامی حکام کے درمیان مذاکرات کے ذریعے اس تنازع کے حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
بُک علاقے کے حکام نے اس اختلاف کے پُرامن حل کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنازع کئی سال سے جاری ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ فریقین کے درمیان مذاکرات اور اتفاقِ رائے کے ذریعے تگو میں مسجد کی تعمیر کا معاملہ پُرامن طریقے سے حل ہو جائے گا۔
آپ کا تبصرہ