20 ستمبر 2026 - 15:32
ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کے اربوں ڈالر خرچ؛ فارن افیئرز نے تہران کی طاقت کی نشاندہی کردی

فارن افیئرز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ اور صیہونی ریاست پر بھاری اخراجات مسلط کرنے کی ایران کی صلاحیت جنگ میں تہران کی اہم طاقتوں میں سے ایک ہے، کیونکہ سستے میزائلوں اور ڈرونز کے استعمال سے مخالف فریق کو انتہائی مہنگے دفاعی آلات اور گولہ بارود استعمال کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی جریدے فارن افیئرز نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ ایسی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے جس میں ضروری نہیں کہ زیادہ فوجی وسائل رکھنے والا فریق کامیاب ہو، بلکہ کامیابی اس فریق کو مل سکتی ہے جو دشمن پر بھاری اخراجات مسلط کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

رپورٹ کے مطابق، ایران نے اپنے علاقائی اتحادیوں کے نیٹ ورک اور سستے میزائلوں و ڈرونز کے ذریعے امریکہ اور صیہونی ریاست کو مہنگے دفاعی میزائل، جدید جنگی جہاز اور بحری جہاز استعمال کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس صورتحال میں تہران کے لیے ٹیکنالوجی کے میدان میں برتری حاصل کرنا ضروری نہیں، بلکہ صرف اتنا کافی ہے کہ وہ دشمن کے لیے جنگ کی لاگت بڑھا دے۔

طاقت کا ایک اور پیمانہ یہ ہے کہ جنگ میں استعمال ہونے والے فوجی سازوسامان کو تیزی سے دوبارہ تیار یا تبدیل کیا جا سکے۔ ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ کی مہم کے لیے بھی ایسی سیاسی عزم کی ضرورت ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ اس کے اخراجات برداشت کر سکے، جبکہ حقیقت پسندانہ طور پر سب سے زیادہ ممکنہ نتیجہ ایک ایسی طویل محاذ آرائی ہو سکتی ہے جس کا کوئی واضح نتیجہ سامنے نہ آئے۔

اس سے قبل امریکی وزارتِ جنگ، پینٹاگون نے کانگریس کو بتایا تھا کہ ایران کے خلاف جارحیت کے دوران اب تک 43 ارب 60 کروڑ ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، رواں ماہ 3 ستمبر تک ایران کے خلاف جارحیت سے متعلق اضافی اخراجات پورے کرنے کے لیے تقریباً 11 ارب 20 کروڑ ڈالر خرچ کیے گئے، جبکہ استعمال ہونے والے گولہ بارود کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے 28 ارب 10 کروڑ ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ضائع ہونے والے فوجی سازوسامان کی جگہ نئے آلات فراہم کرنے کے لیے 4 ارب 30 کروڑ ڈالر ادا کیے گئے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha