اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے شہر القطیف کے امام جمعہ حجت الاسلام و المسلمین شیخ حسن الصفار، نے رسا نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے استاد شہید مطہری کی شہادت کی برسی کی جانب اشارہ کیا اور کہا: شہید مطہری دو اہم خصوصیات کے مالک تھے جن کی علمائے اسلام کو شدید ضرورت ہے: ایک یہ کہ وہ ایک گوشہ نشین اور لوگوں سے الگ تھلگ رہ کر گوشہ نشینی میں زندگی بسر کرنے والے عالم نہیں تھے بلکہ ان کی علمی و ثقافتی اور سماجی سرگرمیان بہت وسیع تھیں اور اسی بنا پر انھوں نے اسلامی معیاروں کی بنیاد پر ایک پوری نسل کی تربیت کی اور ان کی شخصیت کی دوسری اہم خصوصیت یہ تھی کہ جدید علوم اور جدید تہذیب کے حوالے سے وسیع النظر دانشور تھے؛ وہ جامعۂ تہران میں بھی تدریس و تعلیم کی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے چنانچہ انھوں نے طلبہ کے ساتھ قریبی تعلق استوار کیا ہوا تھا۔شیخ صفار نے کہا: ایک عالم دین کو معاشرے کے حالات سے واقف رہنا چاہئے تاکہ وہ معاشرے میں عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق اسلامی احکام و مفاہیم کا نفاذ کرسکے۔ قطیف کےامام جمعہ نے حقیقی اسلام کی تبلیغ میں شہید مطہری کے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: چونکہ شہید مطہری حوزہ علمیہ اور یونیورسٹی دونوں سے مرتبط تھے، لہذا انھوں نے اپنی تقاریر اور متعدد تالیفات کے توسط سے دنیا کو حقیقی اسلام سے روشناس کرایا۔ حجت الاسلام و المسلمین شیخ حسن الصفار نے اسلامی ممالک کی یونیورسٹیز میں استاد شہید مطہری کے اثار کی تدریس کی اپیل کرتے ہوئے کہا: اسلامی ممالک کو عظیم مسلم علماء کے نظریات سے استفادہ کرنا چاہئے اور استاد شہید مطہری ان ہی اکابرین میں سے ایک ہیں جن کے نظریات و تفکرات پر کلاسوں میں بحث و گفتگو ہونی چاہئے۔ شیخ حسن الصفار نے کہا: استاد شہید مطہری کے اثار کا دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات کے حوالے سے دشمنوں کے شبہات و اعتراضات کا جواب دینے والی کاوشوں میں استاد شہید مرتضی مطہری کے آثار خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
.......
/110
بشکریہ از رسا نیوز