ٹائمز اسکوائر دنیا بھر سے نیو یارک جانے والے سیاحوں کا پسندیدہ مقام ہے اور اس واقعے کے چند گھنٹے بعد مقامی محکمہ پولیس نے تصدیق کر دی کہ یہ گاڑی ایک ایسا کار بم تھا جو پھٹ نہ سکا، اور جس میں موجود دھماکہ خیز مواد کو بم ڈسپوزل سکواڈ نے ناکارہ بنا دیا۔ اس گاڑی سے مبینہ طور پر خارج ہونے والے دھوئیں کے باعث فائر بریگیڈ کے کارکنوں نے بلاتاخیر شہر میں براڈوے کا پورا علاقہ خالی کرا لیا تھا۔ بعد ازاں نیو یارک فائر ڈیپارٹمنٹ کے ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ سیاہ رنگ کی اس سپورٹس گاڑی سے حکام کو دھماکہ خیز مواد، پٹرول، پروپین اور کئی جلی ہوئی تاریں ملی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گاڑی غالبا ایک ایسا کار بم تھا جو پھٹ نہ سکا۔ اس افسر کے مطابق ایک مشکوک شخص کو مبینہ طور پر اس گاڑی سے اتر کر فرار ہوتے ہوئے بھی دیکھا گیا تھا۔ نیویارک کے میئر مائیکل بلوم برگ نے کہاہے کہ کار بم کا ناکارہ بناکر ٹائمز اسکوائر کو بڑی تباہی سے بچا لیا جبکہ امریکی صدر براک اوباما نے پولیس اہلکاروں کی بروقت کارروائی کو سراہاہے ۔ نیویارک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مائیکل بلوم برگ نے میڈیا کو بتایا کہ دہشتگرد کار بم کے زریعے ٹائمز اسکوائر میں تباہی پھیلانا چاہتے تھے تاہم پولیس نے اس کوشش کوناکام بنا دیا۔ نیویارک پولیس کمشنر رے منڈ کیلی نے میڈیا کو بتایا کہ کار سے برآمد ہونے والے کاٹن سے وائر، دھماکہ خیز مواد کے تین ٹینک، کریکرز برآمد ہوئے۔ اس سے پہلے مشتبہ گاڑی ملنے کے بعد مشتبہ گاڑی سے دھماکا خیز مواد برآمد ہونے کے بعد خالی کرایا گیا تھا،پولیس کے مطابق مین ہیٹن میں ٹائمز اسکوائر کی فورٹی ففتھ اسٹریٹ پر نا معلوم شخص گاڑی چھوڑ کرفرار ہوگیا۔ جس کے کچھ دیر بعد گاڑی میں موجود دھماکا خیز مواد کو ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے اڑانے کی کوشش کی گئی۔۔تاہم مواد پوری طرح نہ پھٹ سکا اور گاڑی میں آگ لگ گئی۔
طالبان نے نیویارک میں گاڑی میں بم لگانے کی ذمہ داری قبول کرلی ! تحریک طالبان پاکستان نے نیویارک میں ہفتے کوکاربم دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ٹائمزاسکوائرپردھماکے کی کوشش اس وقت ناکام بنادی گئی تھی جب ایک شخص نے مشتبہ گاڑی سے دھواں برآمدہوتادیکھ کرپولیس کوالرٹ کردیاتھا۔امریکی حکام نے موقع پرپہنچ کرصورتحال پرکنٹرول اورگاڑی کوقبضے میں لے لیاتھا۔اب قاری حسین محسود نامی شخص نے یہ ذمہ داری آڈیوٹیپ پیغام میں قبول کی ہے۔امریکی انٹیلی جنس ٹیپ کی تحقیقات کررہی ہے۔پیغام میں کہاگیاہے کہ یہ حملہ مارے گئے بیت اللہ محسوداورعمرالبغدادی کی موت کابدلہ لینے کے لئیکیاگیاتھا۔قاری حسین نے کہاکہ یہ حملہ مسلم ممالک میں امریکی مداخلت کابھی بدلہ لینے کی کوشش تھی۔دوسری جانب امریکی حکام گاڑی کے مشتبہ ڈرائیورکاپتہ چلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ Print Version
....
/110