اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کی انصاراللہ نے 18 گھنٹے کی فوجی کارروائی کے دوران بحیرۂ احمر کے ساحل پر حکومت کے زیر کنٹرول آخری علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا، جس کے بعد یمن کی ساحلی پٹی کا تقریباً پورا علاقہ ان کے کنٹرول میں آ گیا ہے۔
المخا سے سرکاری فورسز کے انخلا کے بعد انصاراللہ کی افواج نے جنوبی سمت میں پیش قدمی شروع کی۔ انہیں محدود مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور ذباب کے بعد مراد شہر بھی ان کے قبضے میں آ گیا، جو بحیرۂ احمر کے ساحل پر حکومت کے زیر کنٹرول آخری علاقوں میں شامل تھا۔
میدانی رپورٹس کے مطابق اس کارروائی کے دوران انصاراللہ کے زیر قبضہ آنے والے علاقوں کا مجموعی رقبہ تقریباً 4 ہزار 500 مربع کلومیٹر ہے۔
جزیرہ میون پر بھی انصاراللہ کا کنٹرول
ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کے بعد انصاراللہ کی بحری افواج نے باب المندب میں واقع اہم جزیرہ میون، جسے پریم بھی کہا جاتا ہے، کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا۔ اس کے بعد ان کی افواج زقر جزیرے میں داخل ہوئیں، جہاں جھڑپیں اب بھی جاری ہیں۔
ایک یمنی مقامی عہدیدار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں تصدیق کی کہ انصاراللہ نے باب المندب کے پورے علاقے اور جزیرہ میون کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
میون؛ باب المندب کی تزویراتی کنجی
جزیرہ میون باب المندب کے عین درمیان واقع ہے۔ یہ آبنائے افریقہ کے ساحل کو جزیرہ نما عرب سے جدا کرتی ہے اور اس کی چوڑائی تقریباً 20 سے 29 کلومیٹر ہے۔
ماضی میں برطانیہ نے بھی اس جزیرے کو ہندوستان جانے والے بحری راستے پر اپنے جہازوں کے لیے ایندھن کی فراہمی کے مرکز کے طور پر استعمال کیا تھا۔
فوجی ماہرین کے مطابق باب المندب پر کنٹرول رکھنے والی قوت اس اہم بحری راستے پر گہری نظر رکھ سکتی ہے اور اسے محدود کرنے کے لیے صرف توپ خانے کا استعمال بھی ممکن ہے، جبکہ میزائل یا ڈرونز کی ضرورت لازمی نہیں۔
عالمی تجارت کے لیے اہم بحری راستہ
باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے اور اسے تزویراتی اعتبار سے آبنائے ہرمز کا چھوٹا ہم پلہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے کے بعد باب المندب توانائی اور عالمی تجارت کی ترسیل کے لیے مزید اہم ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق دنیا کی تقریباً 10 فیصد بحری تجارت باب المندب سے گزرتی ہے۔
انصاراللہ کے ترجمان محمد عبدالسلام نے کہا ہے کہ ساحلی علاقوں میں جاری کارروائی محدود اور دفاعی نوعیت کی ہے اور یمن کے خلاف جارحیت رکنے اور محاصرہ ختم ہونے کے فوراً بعد یہ کارروائی بھی روک دی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ یمن کو اپنے پڑوسی ممالک کے خلاف کوئی دعویٰ نہیں ہے اور بحیرۂ احمر اور باب المندب میں بین الاقوامی بحری آمدورفت اور تجارت محفوظ ہے۔
دوسری جانب یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے کہا ہے کہ یمنی حکومت اور مسلح افواج کسی بھی صورت ایران کو باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گی۔
انصاراللہ صرف ایرانی حمایت یافتہ قوت نہیں، تجزیہ کار
دوحہ انسٹی ٹیوٹ کے میڈیا اسٹڈیز کے استاد محمد المصری نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انصاراللہ ایک ایسی جنگی قوت بن چکی ہے جو ممکنہ طور پر اس قوت سے کہیں زیادہ مضبوط ہے جس کے خلاف سعودی عرب نے تقریباً ایک دہائی قبل جنگ شروع کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ انصاراللہ کے پاس نہ صرف میدان جنگ میں تجربہ رکھنے والے مضبوط جنگجو موجود ہیں بلکہ گزشتہ برسوں کے دوران اسے ایران سے ہتھیار بھی حاصل ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق انصاراللہ کے پاس فضائی دفاعی نظام کے علاوہ قابل ذکر میزائل اور ڈرونز کا ذخیرہ بھی موجود ہے۔
تاہم المصری نے انصاراللہ کو محض تہران کا آلہ قرار دینے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ یہ گروہ ایرانی حکومت کا کٹھ پتلی نہیں ہے۔ ان کے بقول انصاراللہ کی اپنی قومی وجوہات اور یمن کی داخلی جنگ سے متعلق اپنے مقاصد ہیں، جو ایران میں ہونے والی کسی بھی پیش رفت سے الگ ہیں۔
آپ کا تبصرہ