اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کی انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن حزام الاسد نے العربی الجدید سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مغربی یمن کے ساحلی علاقوں میں جاری جنگ ملک کے علاقوں کو واپس لینے کے لیے ایک داخلی کارروائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحیرۂ احمر اور باب المندب میں بحری آمدورفت اور تجارت کی آزادی کی مکمل ضمانت دی گئی ہے۔
حزام الاسد نے مزید کہا کہ موجودہ کارروائی مخصوص اہداف کے خلاف اور دفاعی نوعیت کی ہے، اس لیے باب المندب میں آزادانہ بحری آمدورفت کے حوالے سے عالمی سطح پر کسی تشویش کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد انصاراللہ کی جانب سے بحری جہازوں سے گزرنے کے لیے کوئی ٹرانزٹ ٹیکس یا محصول عائد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمنی انصاراللہ کی افواج نے المخا شہر اور اس کے اطراف کے متعدد علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا اور وہاں موجود سعودی حمایت یافتہ فورسز کو پسپا کر دیا۔ یہ کارروائی سعودی عرب کی حالیہ جارحیت اور یمن کے عوام کے خلاف کئی سال سے جاری محاصرے کے ردعمل میں کی جا رہی ہے۔
یمن میں المیادین کے نمائندے نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ یمنی مسلح افواج نے صوبہ تعز کے مغربی ساحلی علاقے المخا میں اہم علاقوں اور فوجی اڈوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یمنی مسلح افواج نے خالد کیمپ، جبل النار کیمپ اور مغربی ساحل پر قائم فوجی اڈے کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے۔
یمنی مسلح افواج نے بحیرۂ احمر میں ساحلی صوبہ الحدیدہ کے جنوبی حصے میں الخوخہ اور حیس جبکہ تعز میں الوازعیہ کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا ہے۔ المیادین کے مطابق الخوخہ اور حیس کے مجموعی علاقے کا رقبہ ایک ہزار 50 مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب نے اپنی فوجی فورسز کی مدد اور انہیں مزید مضبوط بنانے کے لیے مآرب، الجوف، تعز اور الحدیدہ سمیت متعدد صوبوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔
آپ کا تبصرہ