اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، الجزائر کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ دوطرفہ تعلقات برقرار رکھنے کے لیے تمام ممکنہ راستے ختم ہونے کے بعد اس نے متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
الجزائر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ متحدہ عرب امارات کے ’’اشتعال انگیز یا معاندانہ اقدامات میں اضافے‘‘ کے بعد کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق، الجزائر نے ان اقدامات کے مقابلے میں غیر معمولی تحمل کا مظاہرہ کیا اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اماراتی حکام کی توجہ مبذول کرانے کے ساتھ ساتھ انہیں ان کے ’’نامناسب اور افسوس ناک‘‘ اقدامات کے نتائج سے خبردار کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔
الجزائر کی وزارت خارجہ نے کہا کہ متعدد بار انتباہ کیے جانے کے باوجود یہ اقدامات جاری رہے اور اب صورتحال اس مرحلے تک پہنچ چکی ہے جہاں انہیں دو خودمختار ممالک کے درمیان تعلقات کے دائرے میں قابل قبول یا قابل برداشت نہیں سمجھا جا سکتا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دوطرفہ تعلقات برقرار رکھنے کے تمام ممکنہ راستے ختم ہونے کے بعد الجزائر نے متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
الجزائر کی وزارت خارجہ کے مطابق، اماراتی سفیر کو جمعرات کے روز وزارت خارجہ کے دفتر طلب کیا گیا اور انہیں الجزائر کے فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا۔ انہیں فیصلہ نافذ کرنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت بھی دی گئی ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ چند ہفتوں کے دوران الجزائر اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون نے گزشتہ جولائی کے اواخر میں بھی متحدہ عرب امارات کا براہِ راست نام لیے بغیر ایک ’’چھوٹے عرب ملک‘‘ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ جہاں بھی یہ ملک مداخلت کرتا ہے وہاں ’’خون بہایا جاتا ہے‘‘۔
الجزائر کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق تبون نے کہا تھا: ’’ایک چھوٹا عرب ملک ہے جس کا اثر انتہائی منفی ہے؛ جہاں بھی یہ داخل ہوتا ہے، خون بہایا جاتا ہے۔‘‘
الجزائر کے صدر نے عرب دنیا میں موجود اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ملک مزید تقسیم میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسی مصلحتیں نہ ہوتیں تو الجزائر بہت پہلے اس ملک سے تعلقات ختم کر چکا ہوتا، کیونکہ ان کے بقول ’’اس سے خونریزی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘
تبون کے یہ بیانات پہلے ہی الجزائر اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی علامت قرار دیے جا رہے تھے، تاہم اب سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے باضابطہ اعلان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اختلافات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔
آپ کا تبصرہ