اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کے روز ایکواڈور میں اپنے ایکواڈوری ہم منصب گابریلا سومرفیلڈ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ایران کو دھمکی دی کہ اگر امریکی جنگی جہازوں پر حملے جاری رہے تو اسے ’’بھاری معاشی قیمت‘‘ چکانا ہوگی۔
روبیو نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے امریکی جنگی جہازوں پر حملے جاری ہیں اور جب بھی امریکی جنگی جہازوں پر حملہ کیا جائے گا تو ایران کو اس کی قیمت اپنے تیل بردار بحری جہازوں کے ذریعے ادا کرنا ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران امریکی بحری جہازوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، لیکن اب تک پانچ تیل بردار بحری جہازوں سے محروم ہو چکا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گزشتہ رات چار ایرانی تیل بردار بحری جہازوں کو نقصان پہنچا، جبکہ ایک اور تیل بردار جہاز ڈوب گیا۔
روبیو نے اپنی دھمکی جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایران کو اس اقدام کی قیمت چکانا ہوگی اور ساتھ ہی امریکا ایران کو معاشی طور پر دباؤ میں رکھنے کا سلسلہ بھی جاری رکھے گا۔
یہ بیان ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی جانب سے بدھ کے روز آبنائے ہرمز میں دو امریکی بحری جہازوں، آٹھ تیل بردار بحری جہازوں اور 10 دیگر بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔ ایران کے مطابق یہ کارروائیاں امریکا کی جانب سے پانچ ایرانی تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے جواب میں کی گئیں۔
اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ اس نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سے وابستہ پانچ تیل بردار بحری جہازوں کو تباہ کر دیا ہے۔ امریکی فوج نے اس کارروائی کو ایک امریکی جنگی جہاز پر ایرانی فورسز کے دو دن کے دوران دو مرتبہ حملے کا جواب قرار دیا تھا۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی ایسے وقت میں جاری ہے جب آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور تجارت کے لیے اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔
امریکا اور صیہونی حکومت نے گزشتہ 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ تہران کے مطابق اس جنگ میں تین ہزار سے زائد افراد مارے گئے ہیں۔
ایران نے اس کے جواب میں خطے میں جوابی حملے کیے، جن میں سرکاری ذرائع کے مطابق متعدد امریکی اور صیہونی فوجی اور شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
آپ کا تبصرہ