اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جنوبی کوریا کے درجنوں شہریوں نے بدھ کے روز دارالحکومت سیول میں امریکی سفارتخانے کے باہر احتجاج کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریائی فوجی اہلکار تعینات نہ کیے جائیں۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’جارحانہ جنگ کا حصہ نہ بنو‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔ انہوں نے امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کی مذمت کرتے ہوئے جنوبی کوریا کو اس تنازع سے دور رکھنے کا مطالبہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کچھ عرصے سے اپنے مشرقی اتحادی جنوبی کوریا پر ایران کے خلاف جنگ میں تعاون اور فوجی شرکت کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
جنوبی کوریا کی جانب سے پہلے ہی اس مطالبے پر انکار کیا جاچکا ہے، جس کے بعد ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے حوالے سے اپنے بعض فوجی اور سفارتی فیصلوں میں تبدیلیاں کیں اور شمالی کوریا کے ساتھ رابطے بڑھانے کی کوشش بھی کی۔
احتجاج کے دوران مظاہرین نے ’’ہم اپنے نوجوانوں کو موت کے سمندر میں نہیں بھیج سکتے‘‘ کے نعرے لگائے اور امریکی جنگ میں جنوبی کوریا کی شرکت کی مخالفت کی۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا نے گزشتہ جمعے کو اعلان کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکا کو بعض ’’امدادی اقدامات‘‘ فراہم کرنے کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم اس کے لیے شرط رکھی گئی ہے کہ اس سے جنوبی کوریا کی اپنی دفاعی صلاحیت متاثر نہ ہو۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی کوریا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں فوجی دستے بھیجنے کو جارحیت کے ذمہ دار فریق کی براہِ راست حمایت تصور کیا جائے گا اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
احتجاج میں شریک ایک شہری نے بھی ایران کے اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی کوریا کی جانب سے خطے میں فوج بھیجنا ایک غیر قانونی جنگ میں براہِ راست شرکت کے مترادف ہوگا۔ اس نے الزام عائد کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف جنگ میں متعدد بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے، جن میں ایک پرائمری اسکول اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بمباری بھی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اپنے اتحادی ممالک سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم متعدد اتحادی ممالک کی جانب سے انہیں انکار کا سامنا ہے۔
کئی امریکی اتحادی ممالک کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف جنگ ان کی جنگ نہیں اور وہ کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کو اتحادیوں کی مطلوبہ حمایت نہ ملنے کے باعث ایران کے خلاف جنگ میں مشکلات اور تعطل کا سامنا ہے۔
آپ کا تبصرہ