اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرین میں گزشتہ برسوں کے دوران اقتصادی بہتری، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، رہائش کی سہولت بہتر بنانے اور پنشن یافتہ افراد کی مدد سمیت مختلف منصوبوں اور وعدوں کا اعلان کیا گیا، تاہم ناقدین کے مطابق مہنگائی، ٹیکسوں اور سرکاری خدمات کے بلوں میں اضافے کے ساتھ معاشی مشکلات بدستور برقرار ہیں۔
اقتصادی وعدے عملی تبدیلی نہ لا سکے
ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کے متعدد اقتصادی وعدے عملی سطح پر عوام کی زندگی میں نمایاں بہتری نہیں لا سکے۔ ان کے مطابق بڑھتے ہوئے اخراجات اور معاشی دباؤ نے عام شہریوں کے مسائل میں مزید اضافہ کیا ہے۔
2011 کے بعد سیاسی دباؤ میں اضافہ
سیاسی میدان میں بھی حکومت نے 2011 کے بعد زیادہ تر سخت سکیورٹی پالیسیوں پر انحصار کیا۔
حکومت کے ناقدین کے مطابق سیاسی سرگرمیوں کے لیے محدود گنجائش، عوامی شمولیت میں کمی اور معاشرے کے بعض طبقات کو فیصلہ سازی کے عمل سے دور رکھنے کے نتیجے میں عوامی بے اطمینانی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھی اور ملک کا داخلی بحران پیچیدہ ہوتا گیا۔
اسرائیل سے تعلقات اور بیرونی طاقتوں پر انحصار
بحرین کی خارجہ پالیسی بھی ناقدین کی تنقید کی زد میں ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے اور بیرونی طاقتوں کی قیادت میں فوجی اتحادوں میں شمولیت نے ملک کی سیاسی خودمختاری کو مضبوط کرنے کے بجائے اسے بیرونی طاقتوں پر مزید انحصار کی طرف دھکیلا ہے۔
ناقدین کے مطابق بحرین کو موجودہ صورتِ حال سے نکالنے کا راستہ پرانے اور ناکام طریقوں کو دہرانے میں نہیں بلکہ عوام کا اعتماد بحال کرنے، عوامی رائے کا احترام کرنے، سیاسی شمولیت بڑھانے، معاشی دباؤ کم کرنے اور سماجی انصاف یقینی بنانے میں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وقتی اقدامات اور محض انتظامی حل ملک کے گہرے سیاسی و سماجی بحران کا خاتمہ نہیں کر سکتے۔ جب تک سیاسی شمولیت، شہری حقوق، معاشی دباؤ اور امتیازی سلوک جیسے بنیادی مسائل کو حل نہیں کیا جاتا، نئے منصوبے صرف مسئلے کی شکل بدلیں گے، اس کا حل فراہم نہیں کریں گے۔
آپ کا تبصرہ