14 اگست 2026 - 16:05
بحرین میں درجنوں شہریوں کو سخت سزائیں، الوفاق کا عدالتی کارروائیوں پر سوال

بحرین کی جمعیت الوفاق نے دعویٰ کیا ہے کہ جولائی اور اگست کے دوران درجنوں بحرینی شہریوں کو عمر قید سمیت سخت سزائیں سنائی گئی ہیں، جبکہ عائد کیے گئے مجموعی جرمانوں کی مالیت تقریباً ایک لاکھ بحرینی دینار ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرین کی جمعیت الوفاق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں سیکیورٹی اور عدالتی اقدامات میں شدت کے دوران درجنوں شہریوں کے خلاف سخت سزائیں سنائی گئی ہیں۔

الوفاق کے مطابق جولائی اور اگست کے دوران سنائی جانے والی سزاؤں میں عمر قید سمیت مختلف مدت کی قید اور دیگر سزائیں شامل ہیں، جبکہ ان مقدمات میں عائد کیے گئے مجموعی جرمانے تقریباً ایک لاکھ بحرینی دینار تک پہنچ گئے ہیں۔

جمعیت نے کہا کہ ان عدالتی کارروائیوں کا سلسلہ گزشتہ مارچ سے جاری سیکیورٹی کریک ڈاؤن کے بعد مزید تیز ہوا، جس کے دوران گھروں پر چھاپے مارے گئے اور متعدد شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔ الوفاق کے مطابق بعض گرفتار افراد کے خلاف عائد الزامات کی واضح تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔

الوفاق نے دعویٰ کیا کہ ان مقدمات کی سماعت ایسے حالات میں ہوئی جہاں انصاف کے بنیادی تقاضوں اور شفاف عدالتی عمل کی مناسب ضمانت موجود نہیں تھی اور کارروائیوں کی بین الاقوامی سطح پر بھی نگرانی نہیں کی گئی۔

جمعیت نے مزید الزام عائد کیا کہ بعض زیرِ حراست افراد پر تشدد اور بدسلوکی کے واقعات اور جبری اعترافات حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی شکایات میں اضافہ ہوا ہے۔

الوفاق کے مطابق بحرینی حکام خطے کی موجودہ صورتحال کو سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیوں میں شدت لانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ جمعیت نے کہا کہ رواں سال بعض مقدمات میں عمر قید کے علاوہ 5 سے 10 سال تک قید کی سزائیں بھی سنائی گئی ہیں، جنہیں الوفاق نے مبینہ طور پر من گھڑت مقدمات اور جاسوسی سمیت ایران کے حملوں کی حمایت جیسے الزامات پر مبنی قرار دیا ہے۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بحرین میں شہری آزادیوں، سیاسی اظہار اور عدالتی کارروائیوں کے حوالے سے انسانی حقوق کے حلقوں کی تنقید بدستور جاری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha