14 اگست 2026 - 15:45
ٹرمپ کے نائب کا ایران کے خلاف نیا ہدف، فوجی آپشن سے مایوسی کے بعد معاشی دباؤ کا منصوبہ

ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگی حکمتِ عملی کی ناکامی کے بعد امریکی وزیر خزانہ نے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے واشنگٹن کے ایک نئے منصوبے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا امریکا کی پہلی ترجیح نہیں ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جارحیت شروع ہوئے تقریباً 6 ماہ گزرنے کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اس جنگ میں امریکا کی پہلی ترجیح نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کی اولین ترجیح امریکی عوام کے لیے تیل اور پٹرول کی قیمتوں کو کم رکھنا ہے، جبکہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا دوسری ترجیح ہے۔

جے ڈی وینس کے اس بیان کے بعد ایران کے خلاف امریکی جنگ کے اعلان کردہ مقاصد پر ایک بار پھر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ کے دوران مختلف اوقات میں ایران میں حکومت کی تبدیلی، ایرانی فوج اور اس کی دفاعی صلاحیتوں کی تباہی اور تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے سمیت مختلف اہداف کا اعلان کیا تھا، تاہم اب ان کے نائب نے جنگ کی پہلی ترجیح تیل کی قیمتوں کو قرار دیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز نے جے ڈی وینس کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ان کے تازہ مؤقف سے یہ حقیقت مزید نمایاں ہوگئی ہے کہ جنگ اب آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر مرکوز ہوچکی ہے، جسے ایران نے مذاکرات کے ایجنڈے میں بھی مرکزی حیثیت دے دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز جنگ سے قبل بنیادی طور پر کھلا تھا، تاہم جنگ کے بعد اس کی صورتحال اور اس پر کنٹرول کا معاملہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم مرکز بن گیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha