اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکا میں مسلمانوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) نے ایک سخت بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اسلام مخالف اور اشتعال انگیز بیانات کی مذمت کی ہے۔
تنظیم نے خبردار کیا کہ امریکی صدر کی جارحانہ بیان بازی نے ملک بھر میں منتخب مسلم نمائندوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں خطاب کرتے ہوئے اپنے مخالفانہ مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہم ہر جگہ جہادیوں کے منتخب ہونے کا مشاہدہ کررہے ہیں۔ چاہے کمیونزم ہو یا جہادیت، یہ لوگ منتخب ہورہے ہیں۔‘‘
کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے قومی نائب سربراہ ایڈورڈ احمد مچل نے کہا کہ صدر ٹرمپ مسلم حکام کو ملک کے لیے خطرہ قرار دے کر امریکا بھر میں منتخب مسلم نمائندوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نسل یا مذہب سے قطع نظر تمام امریکیوں کو عوامی خدمت میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے۔
امریکی مسلم حقوق کی اس تنظیم نے کہا کہ صدر کی جانب سے اس طرح کی خطرناک بیان بازی ملک میں مسلمانوں کے خلاف تعصب سے متعلق شکایات میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہے۔ تنظیم کے مطابق 2025 میں اسلام دشمنی سے متعلق 8 ہزار 683 شکایات درج کی گئیں، جو ایک ریکارڈ تعداد ہے۔
ایڈورڈ مچل نے کہا کہ ٹرمپ کے بیانات کا مقصد سیاسی زندگی میں مسلمانوں کی شرکت کو بدنام کرنا ہے، تاہم اس کے نتیجے میں مسلمان ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے اور امریکا کے اندر اور باہر اپنی سماجی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے مزید پرعزم ہوں گے۔
کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے امریکی صدر کے سرکاری سوشل میڈیا صفحات پر اسلام مخالف تصاویر کی اشاعت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کسی ایک نسل یا مذہب کی ملکیت نہیں ہے۔
تنظیم نے ریپبلکن سینیٹر بل کیسڈی کے مؤقف کو بھی سراہا، جنہوں نے اپنی جماعت کے بعض ارکان کے نسل پرستانہ بیانات کی مذمت کی تھی۔ کیسڈی نے کہا تھا کہ مسلمانوں کے بارے میں فیصلے ان کی انفرادی شخصیت اور کردار کی بنیاد پر ہونے چاہئیں، نہ کہ امتیازی تصورات اور دقیانوسی تعصبات کی بنیاد پر۔
آپ کا تبصرہ