اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پیر 10 اگست 2026 کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی معیار برینٹ خام تیل کی قیمت 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 84.58 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ 79.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز میں جاری بحران اور یمن کی حالیہ کارروائیوں کے باعث صورتحال میں مزید کشیدگی کو قرار دیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے پیر کو ایک رپورٹ میں کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے چھ شرائط پیش کیے جانے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان شرائط میں ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف امریکی حملوں کا خاتمہ، پابندیوں کا مکمل خاتمہ، ایران کے اطراف سے امریکی فوجی دستوں کا انخلا اور جنگی ہرجانے کی ادائیگی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق یمنی فورسز نے اتوار کو بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع سعودی عرب کی جیزان ریفائنری پر ڈرون حملہ کیا اور آبنائے باب المندب میں سعودی بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کی دھمکی بھی دی، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی رسد متاثر ہونے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب آبنائے ہرمز بھی بند ہے، جس کے باعث تیل کی عالمی ترسیل کے دو اہم بحری راستوں کو بیک وقت خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
سی این این نے ان حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے مزید بتایا کہ جنگ سے قبل کی صورتحال کے مقابلے میں امریکہ میں پٹرول کی قیمت میں 34.6 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
آپ کا تبصرہ