اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ڈنمارک میں حزب التحریر کی جانب سے نئے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل مسلمان نوجوانوں کے نام ایک ویڈیو پیغام جاری کیے جانے کے بعد ملک میں سیاسی اور میڈیا حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔
ڈنمارک کے وزیر برائے تارکینِ وطن و انضمام مورٹن بودسکوف نے فیس بک پر حزب التحریر کے مؤقف پر ردِعمل دیتے ہوئے سخت لہجے میں لکھا: ’’یہ وہ ڈنمارک نہیں ہے جسے ہم پسند کرتے ہیں! آپ آخر ڈنمارک چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟‘‘
انہوں نے یہ بیان حزب التحریر کی جانب سے ’’اپنی اسلامی شناخت پر قائم رہیں اور اسے فخر کے ساتھ اپنائیں‘‘ کے عنوان سے پیغام جاری کیے جانے کے بعد دیا۔ یہ پیغام ان مسلمان طلبہ کے لیے تھا جو ثانوی تعلیم کے نئے مرحلے میں داخل ہونے والے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ خط آئندہ ہفتے نئے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل مسلمان ہائی اسکول طلبہ کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ ڈنمارک کے نشریاتی ادارے ڈی آر کے مطابق، خط میں مسلمان طلبہ کو خبردار کیا گیا کہ انہیں ایسے نوجوان ماحول کا سامنا ہو سکتا ہے جہاں اسلام سے مطابقت نہ رکھنے والے طرزِ عمل، سماجی اقدار اور طرزِ زندگی کو ایک فطری یا پسندیدہ انتخاب کے طور پر پیش کیا جائے گا۔
خط میں مزید کہا گیا کہ مسلمان ہونا قابلِ فخر شناخت ہے اور اس پر معذرت یا سمجھوتے کی ضرورت نہیں۔
مورٹن بودسکوف نے حزب التحریر کے اس پیغام کو ’’پردے میں چھپی اسلامی انتہا پسندی‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ تنظیم ایک بار پھر مسلمان نوجوانوں کو ثانوی تعلیمی اداروں پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے حزب التحریر کو ’’نفرت انگیز تحریک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی اقدار ڈنمارک سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ان کے بقول ڈنمارک کی بنیاد آزادی، آزادانہ سوچ، آزادانہ انتخاب، مساوات اور تمام انسانوں کی برابری پر رکھی گئی ہے، جبکہ تعلیم اور شعور کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔
دوسری جانب حزب التحریر نے ڈی آر سے بات کرنے سے انکار کیا، تاہم ایک ای میل کے ذریعے اپنے مؤقف سے آگاہ کیا۔ تنظیم نے الزام عائد کیا کہ دراصل مورٹن بودسکوف اور ڈنمارک کی حکومت ہی اسلام کو متنازع بنا کر معاشرے میں تقسیم پیدا کر رہی ہے۔
حزب التحریر کے مطابق حکومت کی جانب سے اسلام کو منفی انداز میں پیش کرنا ہی معاشرے میں دو قطبی کیفیت پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ