10 اگست 2026 - 16:38
شورائے امریکی۔اسلامی تعلقات کا ٹرمپ کی نئی اسلام مخالف پوسٹ پر شدید ردِعمل

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلمان امیدوار عبدالرحمن السید اور ان کی باحجاب اہلیہ کا مذاق اڑانے والی پوسٹ کے بعد امریکہ میں مسلمانوں کے شہری حقوق کی سب سے بڑی تنظیم شورائے امریکی۔اسلامی تعلقات (CAIR) نے شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کسی ایک نسل یا مذہب کی ملکیت نہیں ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عبدالرحمن السید کی صہیونی لابی کی جانب سے بڑے پیمانے پر انتخابی اخراجات کے باوجود ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹ کے امیدوار کے لیے ابتدائی انتخابات میں کامیابی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر ایک تصویر شائع کی۔

اس تصویر میں ٹرمپ اور ان کی اہلیہ ملانیا ٹرمپ کو رسمی لباس میں عبدالرحمن السید اور ان کی حجاب کرنے والی اہلیہ کی تصویر کے ساتھ دکھایا گیا تھا، جبکہ تصویر کے نیچے لکھا تھا: ’’دو بالکل مختلف امریکہ‘‘۔

ٹرمپ نے یہ پوسٹ اس وقت شائع کی جب عبدالرحمن السید نے مشی گن میں امریکی سینیٹ کی نشست حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے ابتدائی انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔

شورائے امریکی۔اسلامی تعلقات (CAIR) نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’امریکہ کسی ایک نسل یا مذہب کی ملکیت نہیں ہے اور صدر ٹرمپ کو یہ طے کرنے کا حق نہیں کہ کون امریکی ہے۔‘‘

شورے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نهاد عوض نے کہا کہ مصری نژاد امریکی شہری بھی اتنا ہی امریکی ہے جتنا جرمن نژاد امریکی شہری، اسی طرح حجاب کرنے والی امریکی خاتون بھی اتنی ہی امریکی ہے جتنی بغیر حجاب کے امریکی خاتون۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی نسل پرستانہ اور متعصبانہ پوسٹ صرف امریکہ کے مسلمانوں پر حملہ نہیں بلکہ امریکہ کے بنیادی تصور پر حملہ ہے۔

عوض نے امریکی صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس نفرت انگیز پوسٹ کو حذف کریں اور نسل، مذہب یا خاندانی پس منظر سے قطع نظر تمام امریکی شہریوں کی نمائندگی کی اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ انہوں نے امریکی کانگریس کے تمام ارکان سے بھی مطالبہ کیا کہ اسلام مخالف نفرت اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کی جاری کوششوں کو مسترد کریں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق فلسطین کے حامی اور اسرائیل مخالف امیدوار عبدالرحمن السید کی مشی گن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ابتدائی انتخابات میں کامیابی، صہیونی لابی کی جانب سے بڑے پیمانے پر مالی وسائل خرچ کیے جانے کے باوجود، اس لابی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

واضح رہے کہ عبدالرحمن السید نومبر کے انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے سابق امریکی رکن کانگریس مائیک راجرز کے مدِمقابل ہوں گے۔ یہ مقابلہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں سینیٹ کی چند اہم ترین نشستوں میں شمار کیا جا رہا ہے اور اس کے نتیجے سے یہ طے ہونے میں مدد مل سکتی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کی مدت کے اختتام تک سینیٹ کا کنٹرول کس جماعت کے پاس رہے گا۔

اگر مصری نژاد عبدالرحمن السید نومبر کے انتخابات میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ امریکہ کی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر بن جائیں گے۔

مشی گن میں منگل کو ہونے والے انتخابات کا نتیجہ بھی اہم سیاسی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ مشی گن ان ریاستوں میں شامل ہے جہاں دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ ہوتا ہے اور 2024 کے صدارتی انتخابات میں اس ریاست نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا۔ اس نتیجے کے مشرق وسطیٰ کے تنازعات کے حوالے سے ڈیموکریٹک پارٹی کی آئندہ پالیسی پر بھی اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha