ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ کے سامنے اپنے خیمے کے باہر ایسٹر سنڈے پر پاکستان کے سابق وزیر جے سالک کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جے سالک نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما ریاض الحسن کے تعاون سے ایسٹر سنڈے کا دن برائن ہو کے ساتھ گزارا جو دنیا میں قیام امن کی کوششوں کے لئے 2 جون 2001ء سے برطانوی پارلیمنٹ کے سامنے خیمہ لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے عراق کے خلاف عالمی پابندیوں کے بعد یہ کیمپ لگایا تھا اور وہ آج تک عراق، افغانستان اور فلسطین میں شہریوں کے قتل عام کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اس تقریب سے تھرڈ ورلڈ سالیڈیرٹی کے چیئرمین کونسلر مشتاق لاشاری، مس اولا، عقیل شاہ، ڈاکٹر فہد میمن، رخسانہ کوثر اور احمد رضا چوہان نے بھی خطاب کیا۔
برائن ہو نے اس بات پر افسوس اور سخت تشویش کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے نام پر لاکھوں معصوم انسانوں، عورتوں اور بچوں کو ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اصل دہشت گرد امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل ہیں جنہوں نے اپنی فوجی قوت کے بل بوتے پر کمزور ممالک پر قبضہ کیا، افغانستان، عراق اور فلسطین میں لوگوں کا خون بہایا۔ دہشت گردوں کی سرپرستی کی، دوسرے ممالک کو مہک ہتھیار فروخت کر کے ایک دوسرے کے خلاف لڑایا اور مالی فوائد حاصل کئے۔ انہوں نے کہا کہ خود کو مہذب کہنے والے یہ ممالک ہتھیاروں کے سوداگر بن گئے ہیں اور انسانیت کے قتل میں ملوث ہیں۔ انہوں نے ان ممالک سے کہا کہ وہ فوری طور پر یہ ظلم و ستم بند کریں، اپنی افواج اپنے اپنے ممالک میں واپس بلائیں تاکہ دنیا میں امن قائم ہو سکے۔
امن کے اس علمبردار کو حکومت نے پارلیمنٹ سے اٹھانے کی بہت کوششیں کیں مگر کامیاب نہ ہو سکی۔ پولیس انہیں 38 مرتبہ اٹھا کر لے گئی مگر وہ پھر واپس آ گئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے برائن ہو کو پارلیمنٹ کے سامنے سے اٹھانے کے لئے 2005ء میں ایک قانون پاس کیا جس کے تحت پارلیمنٹ کے آس پاس ایک ہزار میٹر کی حد میں کوئی خیمہ نہیں لگایا جا سکتا نہ کوئی مستقل طور پر اس میں بیٹھ سکتا ہے۔
اس کے باوجود حکومت برائن ہو کو نہیں اٹھا سکی کیونکہ اس نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ قانون 2005ء میں منظور کیا گیا اور وہ یہاں پر 2001ء سے بیٹھا ہے، اس لئے اس کا اطلاق اس پر نہیں ہو تا۔ انہوں نے کہا کہ امن کے لئے برائن ہو کی خدمات عظیم ہیں۔ رخسانہ کوثر، ڈاکٹر فہد اور احمد رضا چوہان نے کہا کہ پاکستان کے لوگ امن چاہتے ہیں وہ خود دہشت گردی کا شکار ہیں۔ مس اولا نے کہا کہ امریکہ نے نہ صرف گوانتاناموبے میں قیدیوں پر ظلم کیا بلکہ وہ دنیا کے کئی ممالک میں انسانوں کا خون بہا رہا ہے۔
......
/152