17 مئی 2010 - 19:30

سوات کے علاقے مینگورہ میں سیدوشریف مین روڈ پر قائم سرکٹ ہاؤس چیک پوسٹ پر خود کش حملہ میں 5 سیکورٹی اہلکاروں سمیت17افراد جاں بحق اور 65 زخمی ہوگئے

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا کی رپورٹ کے مطابق دھماکےسے متعددعمارتیں منہدم اور10گاڑیاں تباہ ہوگئیں،وزیراعلیٰ سرحدامیرحیدرخان ہوتی نے جاں بحق اورزخمیوں کے لئے معاوضے کااعلان کیاہے جبکہ دھماکے کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کرلی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سوات کے علاقے مینگورہ میں سیدو شریف روڈ پر سرکٹ ہاؤس چیک پوسٹ کے قریب ہفتہ کی صبح سوا 9بجے کے قریب خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں17 افراد جاں بحق اور 65زخمی ہوگئے, دھماکے کے فوری بعد زخمیوں کو ہسپتالوں میں لے جایاگیا جہاں چار کی حالت نازک بتائی جاتی ہے,ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس سے قریبی عمارتیں گرگئیں اور متعدد عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور 10گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔

دھماکے کے بعد سیکورٹی فورسز اورپولیس نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سیکورٹی فورسز نے سیدو شریف روڈ پر کرفیو نافذ کرکے علاقے کے تمام کاروباری مراکز کو بند کرادیا۔ ڈی پی او مینگورہ کے مطابق دھماکے میں 14 کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیاگیاہے۔ ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونیوالوں میں 3 سیکورٹی اہلکار دو پولیس سپاہی اور12 شہری شامل ہیں

جاں بحق ہونے والوں میں 11 افراد کی بخت جمال ، خورشید علی ، اکبر خان ولد شاہجہاں ، عمر زرین ، اکبر خان ، ایمل خان ، قاری یوسف ، حضرت اللہ ، صفدر علی ، واحد گل ولد نورخی گل، نادر شاہ کے طور پر شناخت ہوئی ہے۔ عسکری حکام کے مطابق خود کش حملہ آور پیدل تھا، جب سیکورٹی حکام نے اسے روکنے کی کوشش کی تو اس نے دھماکے سے خود کو اڑادیا۔

  سرحدحکومت نے دھماکے میں جاں بحق افرادکے لواحقین کوتین ، تین لاکھ اورزخمیوں کوایک لاکھ فی کس معاوضہ دینے کااعلان کیاہے۔دوسری طرف کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے سوات میں چیک پوسٹ پر خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔طالبان ترجمان اعظم طارق نے برطانوی ریڈیوکو ٹیلیفون کرکے بتایا کہ وہ پاکستان کے سرکاری اہلکاروں اور املاک پر حملے کرتے رہے گے۔

152/