17 مئی 2010 - 19:30

خبرگان اہل بیت (ع) اور ولایت کی محور پر وحدت کی حفاظت کریں / رہبر معظم کے سوا کوئی بھی ہمدلی اور اتحاد کا محور نہیں ہوسکتا / ہم سب کو نظام اسلام کی وفادار قوتوں کی حفاظت کی خاطر غیرسنجیدہ باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے تا کہ دشمنوں کے تیر رہبر معظم اور انقلاب کو نشانہ نہ بنا سکیں / شاید بعض لوگوں نے دھوکہ کھایا ہو ہمیں انہیں بھی جذب کرنا چاہئے / مجلس خبرگان کے نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ افراط اور تفریط کا سد باب کریں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق نے چوتھی خبرگانِ قیادت اسمبلی کے ساتویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "بعض اجنبی قوتوں اور انقلاب کے بعض مخالفین کا ابتدائے انقلاب سے ہمارے ساتھ اختلاف تھا مگر ہمیں انقلاب اور اسلام پر یقین رکھنے اور آئین اور ولایت فقیہ اور رہبر معظم سے وفاداری کا عہد کرنے والے افراد کو جذب کرلینا چاہئے کیونکہ ممکن ہے کہ ممکن ہے ان میں بعض افراد کو دھوکہ ہوا ہو۔

انھوں نے کہا: خبرگان ولایت فقیہ اور رہبر معظم کی مرکزیت و محوریت کو مد نظر رکھتے ہوئے وحدت و اتحاد کی حفاظت کے لئے کوشش کریں موجودہ حالات میں رہبر معظم کے سوا کوئی بھی اتحاد اور ہمدلی کا مرکز نہیں ہوسکتا۔ ہمیں نظام اسلام کے وفادار قوتوں کی حفاظت کی خاطر غیرسنجیدہ باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے تاکہ دشمنوں کے تیر رہبر معظم اور انقلاب کو نشانہ نہ بنا سکیں۔

بیرونی مسائل

مجلس خبرگان کے سربراہ نے لبنان کے مسائل کے بارے میں کہا کہ صہیونی ریاست کی دھمکیوں کے جواب میں سید حسن نصراللہ کا موقف بالکل مناسب اور بجا تھا اور انھوں نے صہیونی ریاست کی طرف سے شرانگیزی کے سلسلے میں خبردار کیا تھا۔ ایک متنازعہ عیسائی گروہ نے ان کی موقف پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ: آپ کو لبنان کی طرف سے صہیونی ریاست کی دھمکیوں کا جواب نہیں دینا چاہئے۔ اگر صہیونی ریاست کی طرف سے لبنان کی خلاف شرانگیزی نہ ہو تو یہ خوشی کی بات ہوگی لیکن اگر شرانگیزی ہو تو اس کے سلسلے میں ہوشیار رہنا چاہئے۔

انھوں نے افغانستان پر امریکی یلغار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امریکہ نے افغانستان میں شمشیر سونت لی ہی اور دعوی کررہا ہے کہ اس نے صوبہ ہلمند پر قبضہ کرلیا ہے لیکن امریکیوں کے ان اقدامات سے افغانستان میں ناراضگی کی لہر دوڑ گئی ہے اور اس ملک کے بعض عہدیدار مستعفی ہوگئے ہیں۔

آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے یمن میں امریکہ کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: قطعی دستاویزات موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ یمنی عوام پر حملوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے اور امریکہ خطے میں اپنی تمام تر ناکامیاں ایران کے کھاتے میں ڈالنا چاہتا ہے۔

ایران ؛ دہشت گردی کا مظلوم‏ترین نشانہ 

انھوں نے کہا: امریکہ ایران کو دہشت گردی کی بنیاد قرار دینے کی کوشش کررہا ہے جبکہ ایران دہشت گردی کا مظلوم ترین نشانہ بنتا آیا ہے اور کوئی بھی ملک ایران کی مانند دہشت گردی کا شکار نہیں رہا ہے اور دہشت گردی کا شکار ہونے والے مظلوم ترین افراد ایران میں تھے۔ مگر امریکہ ایران پر دہشت گردی کا الزام عائد کرتا ہے اور یہ وہی لوگ ہیں جو عالمی صہیونیت اور صہیونی ریاست کی حمایت کررہے ہیں اور منافقین جیسے دہشت گردوں کو اپنے سرکاری مراکز میں بلاتے ہیں۔

ایرانی عوام انقلاب اسلامی اور وحدت کی ضرورت کی پابند ہیں

انھوں نے کہا: البتہ انہیں معلوم نہیں ہے کہ ہمارے عوام کس طرح مزاحمت کریں گے؛ تا ہم ہمارے عوام نے وقت آنے پر 30 دسمبر اور 11 فروری کی ریلیوں میں انقلاب اسلامی سے اپنا پیوند ثابت کرکے دکھایا۔

آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے 22 بہمن کے روز عوام کی عظیم ریلیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جب بھی رہبر معظم اور انقلاب اسلامی عوام کو میدان میں حاضر ہونے کی دعوت دیں عوام میدان میں حاضر ہوجاتے ہیں لیکن اس بار عوام خود ہی آنا چاہتے تھے اور مناسب موقع پر میدان میں آئے اور عوام نے انقلاب کی حفاظت کے سلسلے میں بہت عظیم کام کرکے دکھایا۔

انھوں نے کہا: ہمیں مسائل پر نظر رکھنی چاہئے اور؛ امریکہ نے علاقے میں بڑی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور ناکامیوں سے دوچار ہوا ہے اور ہمیں سب سے زیادہ سنجیدگی سے وحدت و یگانگت کی طرف توجہ دینی چاہئے نیز ہمیں ایسے اقدامات عمل میں لانے کی ضرورت ہے کہ انقلاب کے وفاداروں سے ہمارے تعلق کو تقویت پہنچے۔

ہمارا محور؛  اہل‏بیت(ع) ، ولایت اور رہبر معظم

انھوں نے کہا: ہمیں مکتب اہل بیت،‌ اصل ولایت فقیہ اور رہبر معظم انقلاب اسلامی کو محور قرار دینا چاہئے؛ اس مجموعی کی حفاظت کے لئے ہمیں اپنے خیالات اور اپنی باتیں منظم کرنی چاہئیں اور ایسا کوئی اقدام نہیں کرنا چاہئے کہ دشمنوں کے تیر رہبر معظم انقلاب کو نشانہ بنائیں۔

انھوں نے کہا: ممکن ہے کہ ہم علمی، صنعتی اور سائنسی ترقی کے ذریعے دنیا والوں کے سامنے اسلام کا چہرہ نہایت مقتدر اور طاقتور ثابت کرکے دکھا سکیں مگر ملت ایران کی کوششوں کا بنیادی ماحصل اور ثمرہ سیرت اہل بیت (ع) پر مبنی نظام ہے جو 1400 سال بعد اس ملک میں اس ملک میں باضابطہ طور پر قائم ہوچکا ہے اور نظام کے تمام ادارے اسے نظام کی بنیاد پر تشکیل پائے ہیں... شاید میں آپ سے زیادہ آگاہ ہوں کہ حالیہ واقعات میں رہبر معظم انقلاب کی مسلسل کوشش رہتی تھی کہ میدان بہت ہی زیادہ گرم نہ ہو اور آپ کی طرف  سے کہریزک نامی حراستی مرکز کی بندش اور بعض گرفتار افراد کی رہائی کے احکامات اسی موضوع کی دلیل ہیں... اس وقت بھی رہبر معظم نگرانی کررہے ہیں اور ان کی یہی کوشش ہے کہ طغیان کی صورت پیش نہ آئے اور بے معنی واقعات رونما نہ ہوں۔ آج رہبر معظم کے سوا کوئی بھی ہمدلی اور ہمراہی و ہماہنگی کی بنیاد نہیں بن سکتا اگرچہ اس سلسلے میں سب کا کردار مؤثر ہے تاہم اگر راہنمائی کا عہدہ رہبر معظم سنبھال لیں ـ اور یہ ذمہ داری آپ نے سنبھال بھی لی ہے ـ اور دوسرے بھی آپ کے نقش قدم پر چلیں ـ مطلوبہ نتائج کا حصول جلد از جلد ممکن ہوگا۔

دشمن ککے ساتھ حد بندی حقیقی ہے

انھوں نے کہا: انقلاب کے وفاداروں اور اس کے دشمنوں کے درمیان سرحدیں حائل ہیں اور یہ سرحدیں حقیقی ہیں اور جعلی یا قراردادی نہیں ہیں۔ ہمیں ان سرحدوں کو مخدوش نہیں ہونے دینا چاہئے۔ ہمیں ان لوگوں کا لحاظ رکھنا چاہئے جو آئین کے پابند ہیں... مجھے کوئی شک نہیں ہے کہ انقلاب، اسلامی نظام اور آئین کے وفادار اس حدبندی کی حفاظت اور رعایت کے خواہاں ہیں اور ہمیں اس حدبندی کو ہرگز مخدوش نہیں ہونے دینا چاہئے۔

آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے خبرگان قیادت اسمبلی کی اراکین سے کہا: آپ ان اصولوں کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں؛ آپ وحدت کی حفاظت کریں اور انقلاب کے وفاداروں کو منتشر نہ ہونے دیں اور افراط و تفریط کا سد باب کریں۔ آپ کوشش کریں کہ اسلامی جمہوری نظام کی رأفت و شفقت، حکمت اور قاطعیت ایک ساتھ نافذ ہوں۔

انھوں نے اس بات پر زور دے کر کہا: اس وقت رہبر انقلاب اسلامی کے سوا کوئی بھی ہمدلی اور اتحاد کا محور نہیں ہوسکتا اور آپ نے اس وقت یہ ذمہ داری