اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایف سی کی حفاظت میں پاراچنار جانے والے 300 شیعیان اہل بیت (ع) کے قافلے کو "نصرت خیل" کے مقام پر وہابی شر پسندوں نے اپنے ہی گھر پاراچنار جانے سے روک دیا۔یہ قافلہ منگل 16 فروری کو صبح پشاور سے ایف سی کی نگرانی میں پاراچنار جارہا تھا جس کو صبح 9 بجے کے قریب کوہاٹ بائی پاس کے نزدیک واقع نصرت خیل کے مقام پر وہابی شر پسندوں نے روک دیا، جس پر قافلے میں شریک بچے ،بوڑھے اور خواتین سڑک پر بے یار و مدد گار ہو کر بیٹھ گئے، شیعہ عمائدین کی ہزار کوششوں کے باوجود انتظامیہ سے خاطر خواہ رابطہ نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے قافلے کے معصوم افراد کو سخت اذیت کا سامنا کرنا پڑا،جبکہ چار گھنٹے گزر جانے کے بعد ایف سی اور فوج کے اعلیٰ حکام سمیت ڈی سی او بھی جائے وقوعہ پر پہنچے، لیکن وہابی شر پسندوں کے آگے حکومت کے اعلیٰ حکام بھی بے بس نظر آتے تھے۔ڈی سی او اور ایف سی کے اعلیٰ حکام کی مذاکرات میں ناکامی اور حکومت کی بے حسی کے باعث تین سو شیعہ مسلمانوں وہابی شر پسندوں نے اپنے ہی گھر جانے سے روکے رکھا۔ حکومت اپنے بھرپور سیکورٹی نظام اور 5 گھنٹے تک مسلسل کوششوں کے باوجود راستہ نہ کھول سکی چنانچہ 9 گھنٹوں تک سڑکوں پر بے یار و مدد گار رہنے کے بعد انہیں پشاور لوٹادیا گیا. واضح رہے کہ پاراچنار کی 5 لاکھ سے زائد شیعہ عوام تقریباً تین برسوں سے وہابی جارحیت کا شکار ہیں اور اسی عرصے سے سڑکیں بھی بند ہیں. سڑکیں پاراچنار کے عوام کے زبردست دباؤ کی وجہ سے ابتدائے محرم الحرام سے کھل گئی تھیں اور ہرہفتے ان سڑکوں سے ایف سی کی معیت میں کئی قافلے گذرتے تھے؛ گو کہ ماضی میں ایف سی کی معیت میں کئی قافلوں پر وہابیوں کے وحشیانہ حملوں کی وجہ سے عوام اطمینان کے ساتھ اس سڑک سے سفر نہیں کرتے اور افغانستان کا راستہ استعمال ہورہا ہے لیکن یہ راستہ بھی محدود سطح پر استعمال ہورہا تھا جو وہابیوں کے کل کے خودسرانہ اقدام ـ اور قومی شاہراہ کی زبردستی بندش پر بضد ره کر وهابیوں کی حکومت پاکستان کے خلاف نئے باغیانہ اقدام ـ کے بعد دوبارہ مخدوش ہوگیا ہے اور انتظامیہ ان چند غیر ملکی ایجنٹ وہابی دہشت گردوں سے مظلوم شیعوں اور اپنے ملک کے وفادار شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکا م ہے.آج ایک بار پهر غیرملکی ایجنٹوں نے پاکستان ہی میں پاکستانی باشندوں کو سفر کرنے سے روک دیا اور حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی باغیانہ سوچ کو مقتدر ثابت کرنے میں کامیاب ہوئے!..................
/110
بشکریہ از شیعہ سینٹر ڈاٹ او آر جی