اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ ایران اور مصر کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی اور سفارتخانوں کے دوبارہ افتتاح کے امکانات پر اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
صہیونی پلیٹ فارم جی ڈی این نے رپورٹ کیا کہ تہران اور قاہرہ کے درمیان سفارتخانوں کی بحالی اور سفیروں کے تبادلے کا فیصلہ خطے کی سیاسی بساط پر غیر متوقع اثرات مرتب کر سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب علاقائی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ایران اور مصر کے تعلقات کی مکمل بحالی کو ایک "حیران کن پیش رفت" قرار دیا اور کہا کہ 1980 سے جاری سفارتی تعطل کے بعد دونوں ممالک جلد سفیروں کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ مہینوں میں دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام کے درمیان متعدد ملاقاتیں ہوئیں، جن میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دسمبر 2024 میں مصر کا دورہ اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ یہ ایک دہائی سے زائد عرصے بعد کسی ایرانی صدر کا قاہرہ کا پہلا دورہ تھا۔
دوسری جانب مصر میں ایران کے مفادات کے دفتر کے سربراہ مجتبی فردوسیپور نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفیروں کے تبادلے کا حتمی فیصلہ کیا جا چکا ہے اور تعلقات ایک نئے اور وسیع مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ