اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شہری اور انسانی حقوق کے اس مرکز نے سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے نام کھلے خط میں سعودی عرب میں اصلاحات اور بیان کی عدم موجودگی کو تشدد اور انتہاپسندی کا پیش خیمہ قرار دیا ہے۔ مذکورہ مرکز نے اس خط میں حقائق کی تہہ تک پہنچنے کے لئے حقیقت یابی کمیٹی (Fact Finding Committee) کی تشکیل کا بھی مطالبہ کیا ہے تا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور امن و امان کی بحالی کے بہانے شہریوں کے سیاسی اور بنیادی حقوق پامال ہونے سے بچ جائیں۔ سعودی قانوندانوں نے اس خط میں وزارت داخلہ کی طرف سے مختلف افراد پر لگائے گئے الزامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ افراد ملک میں اصلاحات کے لئے تجاویز پیش کرنے کی بنا پر ظلم اور سرکوبی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ مرکز نے الزام لگایا ہے کہ سعودی وزارت داخلہ قیدیوں کو آزار و اذیت دیتی ہے جس کے بارے میں مفصل تحقیقات کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ عالمی سطح پر سرگرم انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت ہیومین رائٹس واچ نے بھی مختلف مواقع پر سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورت حال پر گہری تشویش ظاہر کی ہے اور اس صورت حال کے نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
/110