11 فروری 2026 - 10:17
تمام تر تہذیبیں نجات دہندہ اور موعود کا انتظار کر رہی ہیں/ مہدوی تہذیب؛ عقلیت کی تہذیب ہے

"معارف مہدوی؛ نئی اسلامی تہذیب کا نقشۂ راہ [Roadmap]" کے سلسلے کا پہلا اجلاس ابنا خبر ایجنسی میں، منعقد ہؤا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، "معارف مہدوی؛ نئی اسلامی تہذیب کا نقشۂ راہ [Roadmap]" کے سلسلے کا پہلا اجلاس ابنا خبر ایجنسی میں، انجمن مہدویت کے تعاون اور تحقیقی ادارہ امامت کی شرکت سے منعقد ہؤا۔ اس اجلاس کا مقصد مہدوی بیانیے میں امامت کے ادارے کے تہذیبی و ساختیاتی پہلوؤں اور جدید اسلامی تہذیب میں اس کے کردار کا جائزہ لینا تھا۔ اس پروگرام میں متعدد علماء اور محققین نے خطاب کیا۔

حجت الاسلام محمدرضا فؤادیان:

حوزہ کے استاد اور یونیورسٹی کے پروفیسر حجت الاسلام محمدرضا فؤادیان نے کہا: "بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ لبرل ازم انسانیت کے لئے فیصلے کر سکتا ہے، حالانکہ انسانی حقوق کا امریکی تصور دنیا پر مسلط ہو گیا ہے۔ جیسا کہ رہبر معظم نے فرمایا ہے، 'انسان کو اس ادراک تک پہنچنا ہوگا کہ اس نے اپنی ضرورت کا احساس کر لیا ہے' اور وہ غیر پر بھروسہ نہ کرے۔"

انھوں نے اسلامی تہذیب کے تاریخی سفر کی تشریح کرتے ہوئے کہا: "تمام تہذیبوں نے اپنی ترقی اور بقا کے لئے کوشش کی ہے اور اب وہ امام مہدی (علیہ السلام) کے ظہور کا انتظار کر رہی ہیں۔ بارہ اماموں کی امامت کے آغاز کے ساتھ، اللہ نے دین کی تکمیل اور نعمت کے اتمام کی آیت نازل فرمائی۔ سقیفہ کا دھارے نے اسلامی تہذیب کی سمت کو موڑنے کی کوشش لیکن اللہ نے ذمہ داری مسلمانوں کے کندھوں پر ڈال دی، تاکہ وہ خود کو حق کی راہ پر ثابت قدم دکھائیں۔"

انھوں نے زور دے کر کہا: "نئی اسلامی تہذیب کی راہ پر چلنا امامت کے ادارے اور مہدویت کی صحیح فہم کے بغیر ممکن نہیں ہے، کیونکہ مہدوی حکومت، انسانیت کی تاریخ میں امامت کے ادارے کا مظہر کامل ہے۔"

تمام تر تہذیبیں نجات دہندہ اور موعود کا انتظار کر رہی ہیں/ مہدوی تہذیب؛ عقلیت کی تہذیب ہے

مہدی تہذیب، عقلیت کی تہذیب؛ تہذیب کا عقلیت سے اٹوٹ رشتہ

حجت‌الاسلام والمسلمین علی سائلی:

حوزہ کے استاد اور یونیورسٹی کے پروفیسر حجت الاسلام علی سائلی نے تہذیب کی پیچیدگی اور تصوراتی ابہام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "اس حوالے سے بحث کا پیمانہ بہت وسیع ہے؛ اور اس کا احاطہ کرنا مختصر وقت میں ممکن نہیں ہے۔ تہذیب ان تصورات میں سے ایک ہے جو مبہم ہے اور یہ ثقافت کے تصور سے بہت حد تک ملتا جلتا ہے۔"

امامت؛ تجلی بیرونی عقل/ تمدن مهدوی، تمدن عقلانیت است

انھوں نے کہا: "حضرت ولی عصر (علیہ السلام) کی حکومت، عقلیت کی حکومت ہوگی۔ اس کے اثرات مکمل طور پر عقلی ہوں گے اور عملی طور پر ظہور پذیر ہوں گے۔"

انھوں نے کہا: "اس طرح کے حالات میں اسلامی تہذیب ترقی کرے گی اور انسانیت کے لئے بے شمار فوائد و برکات لائے گی۔"

انھوں نے کہا: "اگر ہم دنیا کے نوجوانوں سے عقلیت کی زبان میں بات کریں، اور انہیں تاریخ کی صحیح سمت میں رکھیں، ـ جیسا کہ رہبر معظم اس راہ پر گامزن ہیں، ـ تو یقیناً وہ حقیقت سے واقف ہوں گے اور اسلام کی طرف مائل ہوں گے۔"

حرکت در مسیر تمدن نوین اسلامی، بدون فهم صحیح از نهاد امامت و اندیشه مهدویت ممکن نیست

ادارۂ امامت" کی تشریح تاریخ کے تناظر میں؛ تصورِ امامت  کو  معروضی بنانے سے مہدوی حکومت کے تہذیبی افق تک

حجت الاسلام محمد فرمہینی فراہانی:

امامت تحقیقاتی انسٹی ٹیوٹ کے مطالعہ تاریخ گروپ کے ڈائریکٹر حجت الاسلام محمد فرمہینی فراہانی نے کہا: "تاریخ امامت، ـ یعنی ادارۂ امامت کی تاریخ، ـ امامت میں موجود تمام خصوصیات اور اس کے سماجی تسلسل، اور امام کی موجودگی میں انسان کی روزمرہ زندگی میں اس کی معروضی توسیع کا مطالعہ کیا جائے۔"

انھوں نے کہا: "تاریخ امامت معاشرے پر اثر انداز ہونے والے عناصر کے کردار کو اجاگر کرتی ہے، جو عام طور پر سرکاری تاریخوں میں نہیں پایا جاتا۔"

نشست علمی «حکومت مهدوی؛ تجلی تمدنی نهاد امامت» در خبرگزاری ابنا

انھوں نے امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی سیرت کی مثال دیتے ہوئے کہا: "جب آپؑ ظاہری طور پر خاموشی اختیار کرتے ہیں اور سب کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب کھیتوں میں ہیں، تب بھی آپؑ امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور ایسے تعلقات قائم کر رہے ہیں جو شاید کوئی سیاسی حکمران خلیفہ نہ کرسکے۔"

انھوں نے زور دے کر کہا: "انسان کی اصل زندگی ظہور کے دور سے شروع ہوتی ہے۔ یہ سیدھا راستہ ہے جو افراد کو نہیں بلکہ پوری انسانیت کو مقصدِ خلقت تک پہنچا دیتا ہے."

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha