غزہ میں نسل کشی کے خلاف دنیا بیدار ہو رہی ہے: کولمبیا کے صدر
اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو نے غزہ میں حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا جو غزہ میں ہونے والی نسل کشی کے آگے خاموش تھی، اب بیدار ہو رہی ہے۔
انھوں نے یہ بات امریکہ کے دورے کے دوران اور ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد کہی۔
پیٹرو نے ٹرمپ کے ساتھ اپنی ملاقات کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ اس اجلاس میں توانائی کے معاملات اور ٹیرف کے دباؤ سے نجات پر بات چیت ہوئی۔
انھوں نے مزید کہا کہ جنوبی امریکی ممالک میں توانائی کے شعبے میں بڑی اور غیر استعمال شدہ صلاحیتیں موجود ہیں جو امریکہ میں صاف توانائی کی ترقی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
کولمبیا کے صدر نے کہا کہ ہماری سرحدیں منشیات کی سمگلنگ کی لعنت سے دوچار ہیں اور ہم ہمسایہ ممالک کے ساتھ مشترکہ تعاون سے سمگلنگ کو روک سکتے ہیں۔
پیٹرو نے کہا کہ سیاسی اختلافات کی وجہ سے ہمارے وینزویلا اور امریکہ کے ساتھ اقتصادی تعلقات دہائیوں سے متاثر ہیں۔
کولمبیا کے صدر نے کہا کہ گذشتہ اتوار ہم اپنی سرحدوں کے قریب کئی ٹن منشیات لے جانے والی ایک آبدوز کو روکنے میں کامیاب ہوئے۔
انھوں نے واضح کیا کہ میں نے صدر ٹرمپ سے درخواست کی ہے کہ وہ بیرون ملک مقیم بڑے منشیات اسمگلروں کی گرفتاری میں ہماری مدد کریں۔
پیٹرو نے کہا کہ امریکہ، کولمبیا اور یورپ کی سڑکیں غزہ میں ہونے والی نسل کشی کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہیں۔
غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے، گوستاوو پیٹرو نے بارہا خطے میں انسانی صورت حال کے حوالے سے انتباہ جاری کیا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسے انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خاموش نہ رہے۔
کولمبیا اور امریکہ کے تعلقات بھی گزشتہ کچھ مہینوں سے توانائی کے معاملات، تجارتی ٹیرف اور علاقائی تعاون کے حوالے سے مباحثوں سے متاثر ہوئے ہیں، اور پیٹرو کے امریکہ کے حالیہ دورے کو ان تعلقات کی نئی تعریف کی کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ