اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، آج کے پُرآشوب دور میں جب اضطراب دلوں کا غیر مدعو مہمان بن چکا ہے، رسولِ رحمت حضرت محمد مصطفیٰؐ کی سیرت ہمیں سکون اور اطمینان کا واضح راستہ دکھاتی ہے۔ آپؐ نے دعا اور ذکرِ الٰہی کے ذریعے روحانی طوفانوں کے مقابل ایک مضبوط پناہ گاہ قائم کی۔
ذکرِ خدا؛ وہ سکون جس پر قرآن نے مہرِ تصدیق ثبت کی
رسولِ اکرمؐ نے شدید دباؤ اور مشکل لمحات میں ہمیشہ اللہ کے ذکر کو اپنا سہارا بنایا۔ قرآنِ کریم اس حقیقت کی یوں تصدیق کرتا ہے:
“جو لوگ ایمان لائے، ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہو جاتے ہیں، سن لو! دلوں کا اطمینان صرف اللہ کے ذکر ہی سے ہے”۔
رسولِ خداؐ کی طرف سے “لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ” [2]، جیسے اذکار پر تاکید، بے بسی اور کمزوری کے احساس سے پیدا ہونے والے اضطراب کا مؤثر علاج ہے، کیونکہ یہ انسان کو اللہ کی لا محدود طاقت سے جوڑ دیتا ہے۔
دعا؛ سب سے مہربان ہستی سے شفا بخش گفتگو
رسولِ اکرمؐ کی عملی سیرت میں دعا محض ایک عبادت نہیں بلکہ روزمرہ پریشانیوں سے نمٹنے کا ایک مؤثر ذریعہ تھی۔ آپؐ نے فرمایا:
“دعا مومن کا ہتھیار ہے”۔[3]۔
اضطراب اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے رسولِ خداؐ کی یہ دعا خاص اہمیت رکھتی ہے:
“اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ”[4]
یعنی اے اللہ! میں تجھ سے غم اور پریشانی سے پناہ مانگتا ہوں۔ یہ دعا انسان کے دل کا بوجھ ایسی ذات کے سپرد کر دیتی ہے جو ہر مشکل کو حل کرنے پر قادر ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین محمد حسین امین
محقق اور دینی مصنف
حوالہ جات:
۱۔ سورۃ الرعد، آیت 28
۲۔ الکافی، جلد 2، صفحہ 553
۳۔ بحار الانوار، جلد 93، صفحہ 295
۴۔ صحیح بخاری، جلد 7، کتاب الدعوات، حدیث 3
آپ کا تبصرہ