31 جنوری 2026 - 09:14
مآخذ: ابنا
پاکستان نے سرحدی باشندوں کی آمدورفت کو پاسپورٹ اور ویزا سے مشروط کر دیا

حکومتِ پاکستان نے ایران اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کی آمدورفت کے لیے نئے ضوابط نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت اب سرحدی باشندے صرف درست پاسپورٹ اور ویزا کے ساتھ ہی سرحد عبور کر سکیں گے۔

پاکستان نے سرحدی باشندوں کی آمدورفت کو پاسپورٹ اور ویزا سے مشروط کر دیا

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،  حکومتِ پاکستان نے ایران اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کی آمدورفت کے لیے نئے ضوابط نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت اب سرحدی باشندے صرف درست پاسپورٹ اور ویزا کے ساتھ ہی سرحد عبور کر سکیں گے۔ اس فیصلے کے بعد یک صفحاتی سرحدی دستاویز (راہداری کارڈ) کے ذریعے آمدورفت کی سہولت ختم کر دی گئی ہے۔

 پاکستان کے خبر رساں ادارے خراسان ڈائری نے دو سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اب ایران اور پاکستان کے درمیان سرحدی باشندوں کی نقل و حرکت یک صفحاتی دستاویز کے ذریعے ممکن نہیں ہوگی اور حکومت ایک نئے قانون پر عمل درآمد کر رہی ہے جس کے مطابق سرحدی پٹی کے مکینوں کے لیے پاسپورٹ اور مناسب ویزا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 23 اسفند (15 مارچ 2026) سے سرحدی آمدورفت کے لیے یک صفحاتی دستاویز کا استعمال مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا، جبکہ پاسپورٹ اور ویزا سے متعلق نیا قانون 11 فروردین 1405 (31 مارچ 2026) سے باضابطہ طور پر نافذ ہوگا۔

اس فیصلے کے تحت ایران اور پاکستان کے درمیان آمدورفت کرنے والے تمام سرحدی باشندوں کو لازمی طور پر درست پاسپورٹ اور ویزا حاصل کرنا ہوگا۔

قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے اس سے قبل بھی 2023 کے وسط میں افغانستان کے ساتھ سرحدی آمدورفت کے لیے یک صفحاتی دستاویز ختم کرتے ہوئے پاسپورٹ اور ویزا کو لازمی قرار دیا تھا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha