بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || جون 2025ع میں اسرائیلی حملے کے چند ہی گھنٹے بعد، صہیونی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایرانی عوام سے کہا کہ وہ سڑکوں پر آئیں اور "اسلامی جمہوریہ" کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی تکمیل کریں۔ ، اور یوں، بقول اس کے، اس نے باقی کام کو ایرانی عوام کے سپرد کر دیا۔ ایرانی عوام نے اس صہیونی "ورک آرڈر" کا انتہائی شایان شان طریقے سے جواب دیا اور ایرانی قوم نہ صرف طفل کُش صہیونی کے منصوبے ـ اور جارحانہ صہیو-امریکی عزائم ـ کا حصہ نہیں بنی بلکہ اس کے مد مقابل کھڑی ہوگئی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح۔
نیتن یاہو کا سپنا چکنا چور ہوگیا، ایران کی شکست و ریخت کا سپنا بھی اور ایرانی عوام کی اپنے ساتھ معیت کا سپنا بھی۔ چنانچہ صہیو-امریکی محاذ نے اس بار اس راستے کو دوسرے انداز سے طے کرنے کی سازش تیار کر لی۔ یعنی بارہ روزہ جنگ میں انہوں نے پہلے دن میزائل بھیج دیئے اور اس کے بعد عوام کے سڑکوں پر آنے کا انتظآم کرنے لگے لیکن جنوری سنہ 2026ع میں پہلے سڑکوں کو فعال کر دیا تاکہ ان کے بزعم، حالات سازگار ہوجائیں تاکہ بعدازاں وہ اپنا وہ دوسرا والا کام کر گذریں! وہ اگر اپنا کھیل سیاست کے میدان کے لئے منصوبہ بند کر دیتے تو ان کی سازش توقع سے بہت پہلے طشت از بام ہو جاتی، اگرچہ ان کے سیاسی نعروں کے بھی ایرانی عوام کے درمیان کوئی خریدار نہیں ہے۔ لیکن یہ درست ہے کہ اقتصادی میدان میں اَن-کھُلی گرہیں اتنی ہیں اور گذشتہ چند سالوں میں ان کے ذرائع نے اس قدر "غربت اور بدبختی کا احساس" ایرانی معاشرے پر برسایا ہے کہ وہ جانتے تھے کہ عوام کے جائز اقتصادی مطالبات کے گدلے پانی سے بآسانی مچھلیاں پکڑی جا سکتی ہیں۔ چنانچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ـ براہ راست میدان میں آنے کے بجائے ـ معزول انجہانی شاہ کے بونے، مُضحِک اور ناہنجار بیٹے رضا اور اس کی بیوہ فرح کو میدان میں لے آئے تاکہ وہ ان ہی کے ڈکٹیشن پڑھ کر سنائیں اور "اپنے بیان" کے طور پر شائع کریں۔
چنانچہ جب تاجر اور دکاندار کرنسی کی غیر مستحکم قیمتوں پر احتجاج کے لئے میدان میں آئے، تو موساد کے تربیت یافتہ کرائے کے ایجنٹ بھی ان سے جا ملے اور سڑکوں پر آئے، تاکہ اٹھی ہوئی لہروں پر سوار ہوجائیں، احتجاجی جلوسوں کو ہائی جیک کریں اور ان کے مطالبات کا رخ دوسری طرف موڑ دیں۔ ٹرمپ نے بھی ایکس (X) پر پیغام بھیجا اور احتجاج کی حمایت کی اور دھمکی دی کہ "اگر ایران نے احتجاجیوں کے سخت سلوک روا رکھا تو امریکہ مداخلت کرے گا" اور فلسطینی بچوں کے قاتل نیتن یاہو نے بھی فارسی میں "موت کا پیغام" دیا اور لکھا کہ "حتیٰ اگر آٹھ لاکھ ایرانی مر جائیں تو بھی یہ اس "عوامی" خواہش کی تکمیل کے لئے مناسب رہے گا" جبکہ عوامی خواہش کا مطلب صہیونی آرزو تھی۔ اگرچہ سب جانتے تھے اور جانتے ہیں کہ موت کا یہ نسخہ درحقیقت ایرانی عوام کے مطالبات کی تکمیل کے لئے نہيں بلکہ اسرائیلی عزائم کی تکمیل کے لئے تھا۔ ایرانی عوام کا مطالبہ معاشی حالت کی بہتری پر مبنی تھا جس کے لئے فطری طور پر مرنے اور مارنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور نہیں ہے۔
جمعرات (8 جنوری) اور جمعہ (9 جنوری) کی درمیانی رات ـ موساد کے کرائے کے غنڈوں اور دہشت گردوں کے ہاتھوں ـ ملک کے مختلف حصوں ميں وسیع پیمانے پر تخریب کاری ہوئی اور یہ صہیونی ریاست کے میزائل اور فضائی حملوں کا تسلسل تھا چنانچہ اس رات کو 12 روزہ جنگ کا تیرہواں دن قرار دینا بجا ہے۔ چنانچہ اس کے بعد صفیں جدا ہو گئیں، مہنگائی کے خلاف احتجاج کرنے والے الگ ہو گئے اور ٹرمپ اور نیتن یاہو کے گماشتوں کی صف الگ ہوگئی۔ عوام نے ایران پر جارحیت کرنے والوں کے خلاف صف باندھی، ٹرمپ کے اور نیتن یاہو کے گماشتوں کے بالمقابل۔ یہاں عوام نے صف باندھی کرائے کے گماشتوں کے مقابلے میں۔ احتجاجیوں اور بلوائیوں کی مشترکہ صف بندی ختم ہوئی اور جمعرات (8 جنوری) اور جمعہ (9 جنوری) کی درمیانی رات کے بعد سے سڑکیں گاہے بگاہے میدان جنگ کی صورت اختیار کرتی تھیں، اسی جنگ کا میدان جس کا 12 روزہ دور جون 2025 میں گذرا ہے اور یہ جنگ اسی جنگ کے تسلسل میں لڑی گئی اور یہ بھی ممکن تھا کہ دشمن اگلے مرحلے میں اسے میزائلوں کی شکل میں جاری رکھتا، لیکن جس طرح کہ 12 روزہ جنگ ابتداء میں بڑے دھوم دھام سے شروع ہوئی اور نیتن یاہو اور ٹرمپ نے بڑے بڑے وعدے کئے اور نعرے لگائے اور چند ہی دن میں دونوں عرب ممالک کے سامنے ہاتھ جوڑ کر بیٹھ گئے اور جنگ بندی کی بھیک مانگنے لگے آج اس سے کہیں زیادہ تیاری کے ساتھ، اس سے نمٹا جائے گا اور لگتا نہیں ہے کہ اس بار ایرانی قوم اسرائیل کے خاتمے کے سوا کسی اور شرط پر جنگ بندی کے لئے تیار ہوجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: کبریٰ آسوپار
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ