اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکہ کے سابق صدور باراک اوباما اور بل کلنٹن نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی مذمت کرتے ہوئے وفاقی امیگریشن اہلکاروں کی جانب سے دوسرے مہلک اقدام کو تشویشناک قرار دیا ہے، جو ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی سرپرستی میں سامنے آیا، اور امریکی عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے بنیادی اقدار اور آزادیوں کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔
فرانس 24 کے مطابق، باراک اوباما اور بل کلنٹن نے ریاست مینیسوٹا کے شمالی شہر منیاپولس میں وفاقی امیگریشن اہلکاروں کی جانب سے ہونے والی دوسری جان لیوا فائرنگ کے ردعمل میں کہا کہ امریکی عوام کو ٹرمپ حکومت کے اقدامات کے مقابلے میں اپنے جمہوری اور انسانی اصولوں کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی۔
یہ موقف اس وقت سامنے آیا جب امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے اہلکاروں نے ہفتے کے روز منیاپولس کی ایک برفانی سڑک پر گرفتاری کی کوشش کے دوران 37 سالہ آئی سی یو نرس الیکس پرِٹی کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ یہ واقعہ اسی شہر میں 37 سالہ خاتون رِنی گُڈ کی ہلاکت کے تین ہفتوں سے بھی کم عرصے بعد پیش آیا۔
تصویری شواہد نے وائٹ ہاؤس کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا
ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے فوری طور پر دعویٰ کیا کہ الیکس پرِٹی نے وفاقی اہلکاروں کو نقصان پہنچانے کی نیت سے کارروائی کی اور اس کے پاس پستول موجود تھا، جیسا کہ اس سے قبل رِنی گُڈ کے قتل کے بعد بھی کہا گیا تھا۔ تاہم سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اور امریکی میڈیا کی جانب سے تصدیق شدہ ویڈیوز میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ پرِٹی نے کبھی کوئی ہتھیار نہیں نکالا، بلکہ کیمیائی اسپرے کیے جانے کے چند لمحوں بعد زمین پر گرنے کے فوراً بعد اسے گولی مار دی گئی۔
دریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان واقعات کی ذمہ داری ریاست مینیسوٹا کے ڈیموکریٹ حکام پر ڈالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر لکھا کہ ڈیموکریٹس کے زیر انتظام ’’پناہ گاہی شہر اور ریاستیں‘‘ امیگریشن اداروں سے تعاون نہیں کرتیں اور اس صورتحال کو انہوں نے ’’ڈیموکریٹس کی پیدا کردہ افراتفری‘‘ قرار دیا۔
آپ کا تبصرہ