اس باخبرذریعے کےمطابق ان پاکستانی فوجیوں کے یمن جانے کامقصد القاعدہ سے جنگ کرنا ہے لیکن یمن میں القاعدہ کے مضبوط نہ ہونے کےپیش نظرکہاجارہا ہے کہ ان فوجیوں کویمن کے الحوثی مسلمانوں کوکچلنے کے لئے روانہ کیاگیاہے۔رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی اوریمنی فوج الحوثي مسلمانوں کا مقابلہ نہيں کرپارہی تھی اورپاکستان سے مدد کی اپیل کی گئی تھی ۔ایک اوررپورٹ کےمطابق ایک یمنی سیاستداں نائف القانص نے کہاہے کہ حوثیوں کی جنگ بندی کی تجویزنے سعودیوں کومشکل میں ڈال دیاہے ۔ کیونکہ اس تجویزکے بعد ریاض کےپاس صعدہ کے بے گناہ شہریوں کےخلاف جنگ جاری رکھنےکا کوئي جواز باقی نہيں رہ جاتا۔العالم کی رپورٹ کےمطابق نائف القانص نے بتایا کہ الحوثی تحریک کے رہنما عبدالملک الحوثی نے اس بات کے پیش نظر کہ سعودی فوج اس جنگ میں عام شہریوں پر حملہ کررہی ہے ریاض کو جنگ بندی کی تجویزدی ہے۔ اس یمنی سیاستداں نے کہا کہ سعودی عرب اور یمن کی منصوبہ بندی اورعلاقے میں صیہونی حکومت کی سازشیں نیزعلاقے پرامریکہ وبرطانیہ کی حریص نگاہیں، جنگ بندی اور حوثی مسلمانوں کے قتل عام کوروکنے میں حائل ہيں واضح رہے کہ سعودی عرب کی فوج یمن کی حکومت کی اپیل پر دومہینے سے شمالی یمن کے شہریوں کےخلاف براہ راست جنگ میں کود پڑی ہے اورعام شہریوں کاقتل عام کررہی ہے ۔
17 اپریل 2010 - 19:30
News ID: 177133
ایک باخبرذریعے نے اپنا نام ظاہر نہ کئےجانے کی شرط پر ہمارے پشتوریڈیو کوانٹرویومیں بتایا کہ پاکستان کی اسپیشل فورس کے تین سوجوانوں کودسمبردوہزار نومیں سعودی عرب کی درخواست پر یمن بھیجاگیاہے۔