18 مارچ 2010 - 20:30

پاکستان کے سرکاری اور غیر سرکاری میڈیا نے خبر دی ہے کہ یوم عاشور پر بم دھماکہ کے مبینہ ماسٹر مائنڈ سراج اللہ کے خلاف سات روز میں حتمی چالان پیش کرنے کے احکامات صادرکر دئیے گئے ہیں.

اطلاعات کے مطابق کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی شبانہ وحید نے یوم عاشور پر بم دھماکہ کے مبینہ ماسٹر مائنڈ سراج اللہ کے خلاف مقدمہ کا عبوری چالان پیش نہ کرنے پر تفتیشی افسر پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سات روز میں حتمی چالان پیش کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزم سراج اللہ عاشورہ بم دھماکہ کا مبینہ طور پر ماسٹر مائنڈ ہے، دریں اثناجوڈیشل مجسٹریٹ صدر الدین نے عاشورہ بم دھماکہ کے بعد ہنگامہ آرائی، جلاوٴ گھیراوٴ کرنے کے الزام میں گرفتار بابر رضا اور کمیل حسین کو سولہ جنوری تک کے لیے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔ادہر مختلف شیعہ تنظیوں اور پارٹیوں کے اتحاد جعفریہ الائنس پاکستان کے رہنماوٴں سینیٹر علامہ عباس کمیلی اور ممتاز شیعہ رہنما مولانا محمد حسین مسعودی، نے مطالبہ کیا کہ بے گناہ شیعہ نوجوانوں کورہا کیا جائے ورنہ حالات کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔اُنہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ یوم عاشور پر ناکام سیکورٹی پر نااہل انتظامیہ کو برطرف کیا جائے، یوم عاشور کے سانحہ کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائی جائے ، شہدأ کے ورثا کو 25/لاکھ روپے اور زخمیوں کو 5/لاکھ روپے دیئے جائیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ناظم کراچی نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ سانحہ عاشورکے مقام پرحضرت امام حسین علیہ السلام  کے چہلم سے قبل شہدأ عاشورکی یادگار تعمیرکریں گے اُنہوں نے کہا کہ ہمیں اُمید ہے کہ وہ اپنے اس وعدے کو چہلم کےجلوس سے قبل پورا کریں گے ۔اُنہوں نے کہا کہ ہم حکومت پر واضح کرتے ہیں کہ ہم اس المناک سانحہ کو ستائیس دسمبرکے واقع کی طرح کولڈ اسٹوریج کی نذر نہیں ہونے دیں گے جعفریہ الائنس پاکستان کے رہنماوٴں کہا چونکہ همیں حکام کی جانب سے یہ یقین دلایاگیا تھا کہ ہم اس واقعے کی تہہ تک پہنچ چکے ہیں اور عنقریب زیادہ سے زیادہ سات روز میں اس سازش کو بے نقاب اور اس میں ملوث کرداروں کوگرفتارکرلیں گے لیکن اب تک ایسا کچھ نہیں ہوسکا اور اب سولہ دن گزرنے کے بعد ہم اس پریس کانفرنس کے ذریعے انتظامیہ کو جھنجھوڑنا چاہتے ہیں، سازش کے تحت طالبان کے گروہ سے واقعہ کی ذمہ داری قبول کروالی گئی لیکن پھرتحریک پاکستان طالبان کے ترجمان نے اس کی واضح تردیدکردی جس سے یہ سازش ناکام ہوگئی پھر چند روز بعد جاکر یہ انکشاف ہواکہ یہ خودکش دھماکہ نہیں تھا باقاعدہ بم نصب تھا جس سے یہ مفروضہ کہانی الٹ گئی اور بہت سارے سوالات نے جنم لیا۔امرواقع یہ ہے کہ کراچی میں ہونے والے اس بم دہماکے کہ شہدا کو جس انداز میں بھلانے اور اصل واقعے کے بعد کی صورتحال کو سامنے لاکرلوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے وہ اپنے جگہ ایک قابل غور امر ہے۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ماضی کی طرح اس واقعہ کے پس پردہ حقائق کو منظر عام پر لانے سے خوفزدہ طاقتوں نے پورے واقعے کا رخ موڑنے کے لئے جلد بازی میں کچھ ایسے اقدامات کئے ہیں جس نے سانحۂ عاشورہ کی اعلی سطح پر تحقیقات کو ضروری بنا دیا ہے ۔ اسی لئے قوم کے سنجیدہ طبقے کی جانب سے یہ مطالبہ بار بار اٹھا یا جارہا ہے کہ اس واقعے  کی تحقیقات سپریم کورٹ کے ججوں کے ذریعے کرائی جائے ۔البتہ سب سے پہلے شہدا اور زخمیوں کے لئے ترجیح بنیادوں پر کام کی ضرورت ہے اور اس تاثر کو بھی زائل کرنے کی ضرورت ہے کہ حکومت کو متاثرہ غمزدہ خاندانوں کی کوئی پرواہ نہیں اس لئے کہ تاجروں اور دکانداروں کوریلیف دینے میں خاصی چابک دستی کا مظاہرہ کیا گیا اور شہدا و زخمیوں کو میڈیا نے نظر انداز کیا وہ اپنی جگہ ایک مسلمہ امر ہے ۔چنانچہ آج دوہفتےگذرنے کے بعد بھی میڈیا پرصرف اس موضوع کو اٹھایا جارھا ہے کہ مارکیٹوں کو جلادیا گیا اور کروڑوں کا نقصان ہوگیا لیکن شہدا اور زخمیوں اور غمزدہ خاندانوں  کا ذکرکرنے سے میڈیا والےگریزاں نظر آتےہیں جسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ عاشور کے دن کراچی میں صرف مارکیٹوں اور دکانوں کوہی جلایا گیا ہے اور دھماکہ گویا ضمنی تھا یامیڈیا کی زبان میں معمولی نوعیت کاتھا ۔بہرحال دہماکے کے لئے جگہ کا تعین اور صرف ایک مخصوص علاقے میں دکانوں اور مارکیٹوں میں آتشزدگی اور نمائش سے لیکر تبت سینٹر تک دکانوں اور الیکٹرونک و اسپیر پارٹس مارکیٹوں کا محفوظ رہنا خودکئی سوالات ہیں کو جنم دیتا ہے کہ جس کے پیش نظر  یہ  تصور بعید نہیں ہے کہ  جلوس عزا میں بم دہماکہ اور اس کے بعد کے سارے واقعات کا ماسٹر مائنڈ ایک ہے اور اسی لئے اس کی تحقیقات اعلی سطح پر کی جانی چاہیے ۔